0

مشرقِ وسطیٰ میں فضائی آپریشن متاثر، جموں و کشمیر کے تقریباً 2 ہزار عمرہ زائرین پھنس کر رہ گئے

سری نگر،6 مارچ (یو این آئی) امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں فضائی حدود کی جزوی بندش اور پروازوں کی بڑے پیمانے پر منسوخی کے بعد جموں و کشمیر کے تقریباً دو ہزار عمرہ زائرین مختلف ممالک میں پھنس کر رہ گئے ہیں، جس سے نہ صرف زائرین بلکہ ٹریول آپریٹروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حج و عمرہ کمپنیوں کے عہدیداروں نے بتایا کہ وادی سمیت جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں زائرین اس وقت مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور جدہ میں پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ موجودہ علاقائی صورتحال کے باعث کئی ایئر لائنز نے اپنی پروازیں یا تو منسوخ کر دی ہیں یا مؤخر کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال نہ صرف اُن زائرین کو متاثر کر رہی ہے جو پہلے ہی عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب پہنچ چکے ہیں بلکہ اُن افراد کو بھی مشکلات کا سامنا ہے جو سرینگر اور یونین ٹیریٹری کے دیگر علاقوں سے روانگی کے منتظر تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مختلف ٹریول گروپس سے وابستہ تقریباً دو ہزار زائرین اس صورتحال سے متاثر ہوئے ہیں اور بیشتر افراد نئی پروازوں کے شیڈول جاری ہونے کے انتظار میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی خدشات کے باعث ایئر لائنز نے اپنی خدمات معطل کر دی ہیں جس سے سفری نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ان کے مطابق رمضان المبارک کے دوران عمرہ کے لیے بڑی تعداد میں زائرین کے سفر کا انتظام پہلے سے کیا گیا تھا، جس میں ہوٹلوں کی بکنگ، ٹرانسپورٹ اور فضائی ٹکٹ شامل تھے۔ تاہم پروازوں کی اچانک منسوخی کے باعث ٹریول کمپنیوں کو مالی نقصان بھی اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ٹریول کمپنیوں کا کہنا ہے کہ کئی ٹور آپریٹروں کو سعودی عرب میں موجود زائرین کے لیے ہوٹلوں میں قیام کی مدت بڑھانا پڑی ہے جب کہ آئندہ جانے والے گروپس کی بکنگ بھی منسوخ یا مؤخر کرنی پڑی ہے، جس سے کاروباری سرگرمیوں میں شدید خلل پیدا ہوا ہے۔ دریں اثنا حالیہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ کے بعض حصوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سبب بین الاقوامی فضائی آپریشن متاثر ہوا ہے۔ فضائی حدود کی جزوی بندش اور پروازوں کی منسوخی کے باعث مختلف ممالک کے مسافر اور زائرین سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں پھنس گئے ہیں۔ حکام کے مطابق سعودی عرب میں تعینات بھارتی سفارتی مشنز صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ایئر لائنز و ٹریول آپریٹروں کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ پروازوں کی بحالی کے بعد پھنسے ہوئے مسافروں کی محفوظ واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ادھر کشمیر میں موجود کئی زائرین کے اہلِ خانہ نے پروازوں میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر بزرگ زائرین کے حوالے سے۔ انہوں نے حکام سے اپیل کی ہے کہ جلد از جلد انتظامات کر کے ان کی محفوظ واپسی کو یقینی بنایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں