0

مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہند-امریکہ اشتراک

واشنگٹن، 10 فروری (یو این آئی) امریکہ-ہندوستان اسٹریٹجک پارٹنرشپ فورم (یو ایس آئی ایس پی ایف) نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026میں امریکی سی ای او اور سینئر ٹیکنالوجی لیڈروں کے اب تک کے سب سے بڑے وفد کی قیادت کرے گا۔ یہ سمٹ 16 سے 20 فروری تک نئی دہلی میں منعقد ہوگی۔
اس سمٹ کا انعقاد حکومت ہند کی الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے۔
اس سمٹ میں اپنی شرکت کے ایک حصے کے طور پر، یو ایس آئی ایس پی ایف نے بورڈ اے آئی ٹاسک فورس کا بھی آغاز کیا ہے، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانا، ذمہ دارانہ استعمال میں تیزی لانا اور بڑے پیمانے پر آبادی کے لیے اس کے اثرات کو سپورٹ کرنا ہے۔ یو ایس آئی ایس پی ایف کے چیئرمین جان چیمبرز اس ٹاسک فورس کی قیادت کریں گے۔
مسٹر چیمبرز نے کہا، ”جیسا کہ وزیر اعظم مودی نے بہترین انداز میں کہا تھا کہ اے آئی کا مطلب ‘امریکہ اور انڈیا’ ہے۔ اس ٹاسک فورس کے ذریعے، ہم سرکاری نجی شراکت داری میں یو ایس آئی ایس پی ایف وسیع معلومات سے استفادہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے تقریباً دو ارب لوگوں کے لیے اے آئی کی ذمہ دارانہ ترقی اور نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ نئی ٹاسک فورس امریکہ اورہندوستان کو اس شعبے میں قائدانہ رول ادا کرنےاور مصنوعی ذہانت، اعتماد اور مسابقتی اے آئی ماحولیاتی نظام پر عالمی سطح پر بات چیت کو آگے بڑھانے کے قابل بنائے گی۔”
یو ایس آئی ایس پی ایف کے صدر اور سی ای او ڈاکٹر مکیش آغی نے کہا، ”امریکہ اور ہندوستان کی شراکت داری ایک قابلِ اعتماد عالمی اے آئی ایکو سسٹم کی تشکیل کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی ترقی ذمہ دارانہ طور پر، بڑے پیمانے پر اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ ہونی چاہیے۔ یو ایس آئی ایس پی ایف کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ وہ حکومت اور صنعت کے رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر رہا ہے تاکہ اس مشترکہ وژن کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔”
یو ایس آئی ایس پی ایف کا یہ وفد ‘ٹرسٹ انیشیٹو’کو آگے بڑھائے گا، جس کی توجہ ہندوستان میں اے آئی انفراسٹرکچر کی ترقی، کمپیوٹیشنل صلاحیت کو بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری کو متحرک کرنے، فلاحی طور طریقے متعارف کرانے والے اسٹارٹ اپس کی مدد کرنے اور سپلائی چین کے استحکام پر تعاون کو گہرا کرنے پر مرکوز ہوگی۔ قائدین ہندوستانی پالیسی سازوں اور اختراع کاروں کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ اے آئی تک رسائی کو عام کیا جا سکے، کلاؤڈ اور مشترکہ ڈیجیٹل وسائل کو وسعت دی جا سکے اور زراعت، صحت، تعلیم اور مالیاتی شمولیت جیسے شعبوں میں اے آئی کے حقیقی استعمال کو تیز کیا جا سکے۔
اس سمٹ کے دوران، یو ایس آئی ایس پی ایف 18 فروری کو بھارت منڈپم میں ”اسکیلنگ ٹرسٹڈ اے آئی فار 8 بلین” کے عنوان سے ایک فلیگ شپ سیشن اور دی لیلا پیلس، نئی دہلی میں ایک سرکاری تقریب کی میزبانی کرے گا۔ ان تقریبات میں اے آئی انفراسٹرکچر، فلاح و بہبود پر مبنی اے آئی کی تعیناتی اور اے آئی کے دور کے لیے مہارتوں کی فراہمی پر عوامی مباحثے شامل ہوں گے۔
یو ایس آئی ایس پی ایف کی اس سمٹ میں شرکت، نئی دہلی اور واشنگٹن ڈی سی میں سمٹ سے قبل ہونے والی وسیع تر مصروفیات کا تسلسل ہے، جن میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے فروغ، اے آئی وسائل کی عوامی رسائی، دفاعی استعمال اور مالیاتی خدمات جیسے موضوعات پر ہونے والے مذاکرات شامل ہیں۔
یو ایس آئی ایس پی ایف کے چیئرمین جان چیمبرز نے مزید کہا، ”ہندوستان کی ترقی پر غیر متزلزل یقین رکھنے اور انسانی زندگی کو بدلنے کے لیے اے آئی کی صلاحیتوں کے بارے میں یکساں پر امید ہونے کے ناطے، یہ وفد ہمارے دونوں ممالک میں قابلِ اعتماد، وسیع تر اور ہمہ گیر اے آئی نظام کو تقویت بخشے گا۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں