سری نگر، 14 مارچ (یو این آئی) جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ’’ایران کے عوام پر مسلط کی گئی غیر منصفانہ جنگ بند ہو۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ہر وہ پیش رفت جو ہندوستان کو ایندھن کی قیمتیں کم رکھنے میں مدد دیتی ہے وہ فائدہ مند ہے، لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دیرپا فائدہ تبھی ہوگا جب مغربی ایشیا میں امن قائم ہوگا۔ سری نگر میں آبنائے ہرمز سے ایران کی جانب سے خام تیل کے دو ٹینکرز کو گزرنے کی اجازت دینے کے سوال پر عمر عبداللہ نے صحافیوں کو بتایا’’ کوئی بھی چیز جو ہمیں قیمتیں کم رکھنے کی اجازت دیتی ہے، وہ ہمارے لیے اچھی ہے۔ چاہے اس کا مطلب روس سے تیل خریدنا ہو یا اس آبنائے کے ذریعے اپنی گیس اور ایندھن کی سپلائی کو منتقل کرنا ہو جو کہ باقی سب کے لیے بند ہے، یہ ہمارے لیے بہتر ہے۔‘‘
تاہم، انہوں نے مزید کہا کہ معاشی فوائد خطے میں امن کی ضرورت پر حاوی نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا، ’’آخر کار، ہم جو چاہتے ہیں وہ امن ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایران کے لوگوں پر مسلط یہ غیر منصفانہ جنگ ختم ہو۔‘‘
عمر عبداللہ نے ایران کی قیادت پر اثر انداز ہونے کی بیرونی طاقتوں کی کوششوں پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا ’’جیسا کہ میں نے بارہا کہا ہے، امریکہ اور اسرائیل کو یہ فیصلہ کرنے کا حق نہیں ہے کہ ایران کی قیادت کون کررہا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ یہ طے نہیں کر سکتے کہ سپریم لیڈر کون ہوگا۔ یہ وہاں کی کمیونٹی، وہاں کے عوام اور ایران کے شہریوں کا فیصلہ ہے۔‘‘
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ نہ صرف ایک قومی رہنما تھے بلکہ ایک ایسی مذہبی شخصیت تھے جن کا پوری مسلم دنیا میں احترام کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا ’’جس شخصیت کو انہوں نے شہید کیا، آیت اللہ خامنہ ای، وہ صرف ایران کے لیڈر نہیں تھے۔ وہ پوری مسلم امہ کے لیے ایک تسلیم شدہ مذہبی پیشوا تھے۔ اس لیے اسے صرف ایران کے ساتھ تنازع کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، اس کے اثرات کہیں زیادہ وسیع ہیں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ ایندھن کی قیمتوں پر اثر انداز ہونے والے بین الاقوامی تنازع کی وجہ سے ہوائی کرایوں میں اضافے کے خدشات کے باوجود، موسم گرما کے آنے والے سیزن میں بڑی تعداد میں سیاح کشمیر کا رخ کریں گے۔
عبداللہ نے کہا، ’’ توقع ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں آئیں گے، کشمیر کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوں گے اور واپس جائیں گے۔‘‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا عالمی کشیدگی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں سیاحوں کی آمد پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، تو انہوں نے کہا کہ خدشات موجود ہیں کیونکہ ہوائی جہاز کے ٹکٹ مہنگے ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’جہاں تک سیاحت کا تعلق ہے، امید تو ہے، لیکن ٹکٹوں کی قیمت صرف بین الاقوامی پروازوں پر نہیں بڑھ رہی، انڈیگو نے یہاں بھی فیول سرچارج لگانا شروع کر دیا ہے۔ اب ہمیں دیکھنا ہوگا کہ اس کا ہمارے سیزن پر کتنا اثر پڑتا ہے۔‘‘ ان چیلنجوں کے باوجود عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت کو سیاحت کے اچھے سیزن کی امید ہے۔
0
