0

وادی بھر میں دہشت گردی کے حمایتی نیٹ ورک کے خلاف بڑا کریک ڈاون،1300 افراد زیرِ حراست

سری نگر،10نومبر(یو این آئی) جموں و کشمیر پولیس نے وادی بھر میں دہشت گردی کے حمایتی نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا ہے، جس کے دوران مختلف اضلاع میں تقریباً 1300 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی گزشتہ چار دنوں سے مسلسل جاری ہے اور اس کا مقصد دہشت گردوں کے سہولت کاروں، سابق اوور گراؤنڈ ورکرز ، ہمدردوں اور اُن افراد کے رشتہ داروں کے نیٹ ورک کو توڑنا ہے جو پاکستان یا پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں سرگرم ہیں۔
ایک سینئر پولیس افسر نے یو این آئی کو بتایا کہ گزشتہ چند دنوں میں تقریباً 1300 مشتبہ افراد کو پوچھ تاچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی پولیس کی اُس جامع حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وادی میں موجود دہشت گردی کے پورے ’ایکو سسٹم‘ کو جڑ سے ختم کرنا ہے ، وہ نظام جو سرگرم دہشت گردوں اور اُن کے سرحد پار ہینڈلرز کو مالی امداد، لاجسٹک سپورٹ اور مقامی سہولت کاری فراہم کرتا ہے۔
موصوف افسر کے مطابق، ’ان میں سے کئی مشتبہ افراد کو مختلف سب جیلوں میں نظر بندی کے قوانین کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے۔‘
ذرائع کے مطابق، یہ بڑا کریک ڈاؤن اس وقت شروع کیا گیا جب انٹیلی جنس ایجنسیوں کومصدقہ اطلاع موصول ہوئی کہ پاکستان یا پاکستانی زیر قبضہ کشمیر میں موجود دہشت گرد عناصر وادی میں امن و امان کو درہم برہم کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ اس خطرے کے پیش نظر پولیس اور سیکورٹی فورسز نے نہ صرف مشتبہ افراد پر کارروائی تیز کی بلکہ مختلف اضلاع میں بڑے پیمانے پر ملی ٹینٹ مخالف آپریشنز بھی شروع کیے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو پیشگی طور پر ناکام بنایا جا سکے۔
پولیس نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون کے تحت درج مقدمات میں ضمانت پر رہا کیے گئے اُن افراد کے خلاف بھی کارروائی شروع کر دی ہے جو ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق، متعدد اضلاع میں ایسے افراد کی ضمانت منسوخ کرنے کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا گیا ہے تاکہ اُنہیں دوبارہ گرفتار کر کے قانونی کارروائی کی جا سکے۔
اسی دوران بڈگام ضلع میں پولیس نے امریکہ میں مقیم کشمیری علیحدگی پسند غلام نبی فائی کے نیٹ ورک پر بڑی کارروائی کی۔
پولیس ذرائع کے مطابق، فائی جو ضلع بڈگام کے واڑون علاقے کا رہائشی ہے — کو رواں سال ایک مقامی عدالت نے یو اے پی اے کے تحت مفرور قرار دیا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ بڈگام میں متعدد مقامات پر چھاپے مارے گئے تاکہ غلام نبی فائی کے مالی و تنظیمی نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے۔
ذرائع نے کہا کہ غلام نبی فائی امریکہ میں مقیم ایک تنظیم کشمیری امریکن کونسل کا سربراہ ہے، جو پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پشت پناہی میں کشمیر کے حوالے سے پاکستان نواز بیانیے کو عالمی سطح پر فروغ دیتا رہا ہے۔
پولیس نے شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں دہشت گردی کے معاون نیٹ ورک کے خلاف ایک منظم اور بیک وقت کارروائی انجام دی۔پولیس کے مطابق، اس دوران پی او کے اور پاکستان میں مقیم کشمیری شہریوں سے منسلک 16 جائیدادوں پر چھاپے مارے گئے۔
کارروائی کے دوران 10 افراد کو احتیاطی دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا۔
اسی طرح 23 مقامات پر اوور گراؤنڈ ورکرز سے وابستہ ٹھکانوں کی تلاشی لی گئی، جن میں سے 16 کو غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر بند کیا گیا۔
پولیس نے مزید بتایا کہ یو اے پی اے کے تحت ضمانت پر رہا چھ ملزمان کی جائیدادوں کی بھی تلاشی لی گئی اور پانچ دیگر کو حراست میں لیا گیا۔
جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں بھی پولیس نے مشتبہ مقامات پر وسیع پیمانے پر کورڈن اینڈ سرچ آپریشنز انجام دیے۔ذرائع کے مطابق، پولیس نے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر لال چوک اننت ناگ میں ایککارکن کے گھر پر چھاپہ مارا ۔
پولیس کے مطابق، اس دوران کئی مشتبہ افراد کی شناخت کی تصدیق کی گئی اور متعدد مکانات کی تلاشی لی گئی۔
اونتی پورہ سب ڈویژن میں بھی پولیس نے کئی علاقوں میں کارروائیاں کیں، جن میں حالیہ انکاؤنٹر کے مقامات اور ہلاک دہشت گردوں و ان کے ساتھیوں کے گھروں پر چھاپے شامل ہیں۔
اسی طرح کلگام اور شوپیاں اضلاع میں بھی مشتبہ نیٹ ورکس پر پولیس کی کارروائیاں جاری رہیں۔
پولیس کے مطابق، یہ کارروائیاں دہشت گردوں کے ’سلیپر سیلز‘ کو ختم کرنے کے لیے انجام دی جا رہی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ دہشت گردانہ منصوبے کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔
ایک سینئر پولیس افسر نے کہا کہ،’یہ کارروائیاں صرف عارضی نہیں بلکہ ایک منظم اور مسلسل کوشش کا حصہ ہیں۔ ہمارا مقصد وادی سے دہشت گردی کے تمام سہولت کار نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے تاکہ عام شہریوں کو پائیدار امن کا احساس دلایا جا سکے۔‘
پولیس کے مطابق، آئندہ دنوں میں بھی ایسی کارروائیاں ’مربوط اور ٹھوس حکمت عملی‘ کے تحت جاری رہیں گی، تاکہ دہشت گردی کے مالی، لاجسٹک اور نظریاتی نیٹ ورکس کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکے۔
وادی بھر میں جاری یہ بڑے پیمانے کی کارروائیاں پولیس کی اُس نئی حکمتِ عملی کی عکاس ہیں، جس کے تحت نہ صرف سرگرم دہشت گرد بلکہ اُن کے سہولت کار، فنڈنگ چینلز اور رابطہ کار بھی قانون کے شکنجے میں لائے جا رہے ہیں۔
جموں و کشمیر پولیس کے مطابق، یہ کریک ڈاؤن اس بات کا واضح پیغام ہے کہ دہشت گردی کے لیے اب وادی میں کوئی محفوظ جگہ نہیں بچی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں