مساجد، خانقاہوں اور درگاہوں میں لاکھوں مسلمانوں کی شب بیداری، رقت آمیز دعائیں اور قران خوانی
سرینگر// 17مارچ/ وادی کشمیر میں ہزار مہینوں سے افضل اور بابرکت رات شبِ قدر انتہائی عقیدت، احترام اور روحانیت کے ماحول میں منائی گئی۔ اس موقع پر وادی کے طول و عرض میں واقع مساجد، خانقاہوں، درگاہوں، زیارت گاہوں اور دینی مدارس میں رات بھر عبادات، ذکر و اذکار، قران خوانی اور اجتماعی دعاوں کی روح پرور محافل منعقد ہوئیں جن میں لاکھوں فرزندانِ توحید اور بناتِ حوا نے شرکت کی اور اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود ہو کر مغفرت، رحمت اور امتِ مسلمہ کی فلاح و بہبود کیلئے گڑگڑا کر دعائیں مانگیں۔یو این ایس کے مطابق شبِ قدر کے موقع پر سب سے بڑے اجتماعات درگاہ حضرت بل،خانقاہ معلی،آستان عالیہ دستگیر صاحب خانیار و سرائے بالا،زیارت مخدوم صاحب سرینگر،نقشبند صاحب،جان صاحب صورہ،آثار شریف شہری کلاشپورہ، حضرت سید یعقوب صاحب سونہ وار، جامع مسجد بٹوارہ،سوپور،زیارت شیخ نور الدین صاحب چرار شریف،بابا پیام الدین صاحب ٹنگمرگ، زیارت زین الدین صاحب عشمقام،آچار شریف پنجورہ،کعبہ مرگ،جانباز صاحب بارہمولہ،اہم شریف بانڈی پورہ،سمیت دیگر آستانوں اور بڑی مساجد میں منعقد ہوئے جہاں نہ صرف سرینگر بلکہ وادی کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے عقیدت مندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس بابرکت رات کے دوران مسلمانوں نے نمازِ تراویح ادا کرنے کے بعد پوری رات تلاوتِ قران، نوافل کی ادائیگی، درود و اذکار اور ذکرِ الٰہی میں گزاری۔ کئی مقامات پر درسِ قران اور وعظ و نصیحت کی محافل بھی منعقد ہوئیں جن میں علمائے کرام نے شبِ قدر کی فضیلت، نزولِ قران اور اس مبارک رات کی روحانی اہمیت پر روشنی ڈالی۔رات کے پ?رسکون لمحات میں مساجد اور خانقاہوں میں ایک روح پرور منظر دیکھنے کو ملا جب ہزاروں عقیدت مند اشکبار آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور دعاگو نظر آئے۔ عبادت گزاروں نے اپنے گناہوں کی معافی، مرحومین کی مغفرت، بیماروں کی شفا، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور دنیا بھر میں امن و سلامتی کے لئے خصوصی دعائیں کیں۔ کئی مقامات پر دعا کے دوران رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے جہاں لوگ آہ و زاری کے ساتھ اپنے رب کے حضور جھک کر بخشش کے طلبگار تھے۔وادی کے دیگر اضلاع جن میںبارہمولہ،کپوارہ،بانڈی پورہ،سرینگر،بڈگام، گاندربل، شوپیاں، اننت ناگ،پلوامہ اور کولگام ، کے ضلعی و تحصیل صدر مقامات پر قائم مرکزی مساجد، خانقاہوں اور زیارت گاہوں میں بھی شب خوانی کی عظیم الشان مجالس منعقد ہوئیں جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور پوری رات عبادت میں گزاری۔دوسری جانب خواتین، بزرگوں اور بچوں نے گھروں میں بھی عبادات کا خصوصی اہتمام کیا۔ گھروں میں تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور نوافل کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اہلِ خانہ نے اپنے مرحومین کے لیے دعائے مغفرت اور اپنی آنے والی نسلوں کی بھلائی کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔شبِ قدر کے اجتماعات کے پیش نظر مساجد اور خانقاہوں کی انتظامیہ کمیٹیوں نے خصوصی انتظامات کیے تھے جبکہ انتظامیہ نے عقیدت مندوں کی سہولت کے لیے ٹرانسپورٹ اور دیگر انتظامات کو یقینی بنایا۔ اس مقصد کے لیے آرٹی سی کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں سے خصوصی بس سروس چلائی گئی جبکہ نجی ٹرانسپورٹروں کو بھی ہدایت دی گئی کہ وہ رات گئے تک سروس جاری رکھیں تاکہ شب بیداری میں شرکت کرنے والوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔شبِ قدر کی مناسبت سے مختلف رضاکار تنظیموں اور مقامی نوجوانوں نے بھی عبادت گزاروں کی خدمت کے لیے انتظامات کیے اور کئی مقامات پر عبادت میں مصروف مرد و خواتین کوگرم مشروبات اور پانی فراہم کیا گیا۔رات بھر مساجد، خانقاہوں اور آستانوں کے اطراف درود شریف، تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الٰہی کی صدائیں گونجتی رہیں جس سے پورا ماحول روحانیت، عقیدت اور نورانیت سے معطر نظر آیا، جبکہ عبادت گزار اللہ تعالیٰ کی رحمت، مغفرت اور اپنی زندگیوں میں خیر و برکت کے طلبگار نظر آئے۔
