جموں،27دسمبر(یو این آئی) مرکزی وزیر ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے ہفتے کے روز کہا کہ کشمیری پنڈت برادری کا تہذیبی، ثقافتی اور لسانی ورثہ کشمیر کی صدیوں پر محیط مشترکہ تہذیب کا بنیادی ستون ہے، اور اس ورثے کا تحفظ کشمیر کی ثقافت کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔
جموں میں ممتاز وکیل اور صحافتی پنڈت پریم ناتھ بٹ کی برسی کے موقع پر منعقد کی گئی تقریب سے خطاب کے دوران ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے آنجہانی صحافی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانی کشمیری پنڈتوں پر ڈھائے گئے مظالم اور دہائیوں تک جاری رہنے والی بے گھری کی تکلیف کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ گیارہ برسوں میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے دہشت گردی کے خلاف مضبوط اور فیصلہ کن اقدامات کیے، جس کے نتیجے میں جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ واقعات، سنگ باری اور ٹارگٹ کلنگز میں نمایاں کمی آئی ہے۔ یہ کمی حکومت کی سیاسی مضبوطی اور واضح لائحۂ عمل کا نتیجہ ہے، جو ماضی کی کمزور پالیسیوں سے مختلف ہے۔
مرکزی وزیر نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ کشمیری پنڈتوں کی ثقافتی اور لسانی شناخت بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ برادری کشمیر کی تہذیبی روح کی بنیاد رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، ادب، انتظامیہ اور سماجی اقدار میں کشمیری پنڈتوں کا کردار ہمیشہ مرکزی رہا ہے، اور ان کی موجودگی نے کشمیری معاشرے کو ایک معتدل اور دانشورانہ سمت دی۔
ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے کہا کہ دہشت گردی نے انسانی جانوں کا ناقابلِ تلافی نقصان کیا اور سماجی ہم آہنگی کو بری طرح متاثر کیا۔ کئی دہائیوں تک دہشت گردی کے متاثرین، خصوصاً کشمیری پنڈتوں کے انسانی حقوق کو وہ توجہ نہیں ملی جس کے وہ مستحق تھے، جس سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔
انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت کشمیری پنڈت کمیونٹی کے جائز اور دیرینہ مطالبات کے حل کے لیے سنجیدہ، مخلص اور پُرعزم ہے۔ انہوں نے کمیونٹی سے کہا کہ وہ ایک جامع دستاویز تیار کرے جس میں یہ واضح ہو کہ اب تک حکومت کن مطالبات کو پورا کر چکی ہے اور کون سے مسائل ابھی باقی ہیں۔ اس دستاویز کو وزارتِ داخلہ کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے تاکہ عمل مزید تیز ہو۔
مرکزی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت نہ صرف پنڈت برادری کی بحالی بلکہ کشمیر کی ثقافتی شناخت کے تحفظ کے لیے بھی پُرعزم ہے، تاکہ آنے والی نسلیں اس ورثے سے واقف رہیں۔
0
