‘
سری نگر، یکم مارچ (یو این آئی) “عاقب نبی نے جموں و کشمیر کو کھیلوں میں ایک نئی پہچان دی ہے،” یہ الفاظ جموں و کشمیر کے سابق کپتان پرویز رسول کے تھے، جو عاقب نبی کا شکریہ ادا کر رہے تھے۔ عاقب نبی نے اپنی شاندار گیند بازی سے ٹورنامنٹ میں 60 وکٹیں حاصل کیں، جن میں سے 26 صرف ناک آؤٹ مرحلے میں آئیں، اور اپنی ٹیم کو رنجی ٹرافی کا چیمپئن بنا دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چھ سال قبل جنوری 2020 میں پرویز رسول نے ہی عاقب نبی کو ان کی پہلی رنجی ٹرافی کیپ دی تھی۔
پرویز رسول نے آخری بار 2022 میں جموں و کشمیر کی نمائندگی کی تھی، لیکن ان کا دل آج بھی اپنی ٹیم کے لیے دھڑکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فتح کے لمحات کو براہِ راست دیکھنے کے لیے وہ ہفتے کے روز وقت سے کافی پہلے ہی گھر سے نکل گئے تھے۔ رسول اس وقت جموں و کشمیر اسپورٹس کونسل میں کوچنگ کر رہے ہیں اور انہوں نے اپنے آبائی شہر میں ‘ساؤتھ کشمیر کرکٹ اکیڈمی’ بھی قائم کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پچھلے دو ہفتوں سے اکیڈمی کے بچے صرف یہی کہہ رہے ہیں کہ وہ عاقب نبی جیسی گیند بازی کرنا چاہتے ہیں۔
سابق ہندوستانی کرکٹر عرفان پٹھان، جو 2019-20 میں جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن کے مینٹور رہے تھے، اس تاریخی جیت پر کافی جذباتی نظر آئے۔ ممبئی میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی کمنٹری کے دوران بھی ان کی نظریں فائنل پر جمی ہوئی تھیں۔ پٹھان نے کہا، “اگرچہ مجھے جموں و کشمیر کرکٹ چھوڑے پانچ سال ہو گئے ہیں، لیکن یہ جیت مجھے ذاتی نوعیت کی لگتی ہے۔ اگر ایک کھلاڑی کے آئی پی ایل میں کھیلنے کا اتنا اثر ہو سکتا ہے، تو ذرا سوچئے کہ رنجی ٹرافی جیتنے کا کیا اثر ہوگا۔”
جموں میں عبدالصمد کے والد فاروق محمد کو یقین نہیں آ رہا کہ ان کا بیٹا رنجی چیمپئن بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صمد نے وقت کے ساتھ اپنی بلے بازی کے انداز کو بدلا ہے اور اب وہ ایک بہتر کھلاڑی بن کر ابھرا ہے۔ پورا علاقہ جشن کی تیاریوں میں مصروف ہے اور کھلاڑیوں کی واپسی کا بے صبری سے انتظار کر رہا ہے۔
سابق کپتان سمیع اللہ بیگ، جو اس وقت اسسٹنٹ انجینئر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، نے بھی ٹیم کی جیت پر فخر کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، “انتظامیہ آتی جاتی رہتی ہے، لیکن دنیا ان کھلاڑیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی جنہوں نے جموں و کشمیر کو پہلی بار رنجی چیمپئن بنایا۔ اس جیت نے ہمارے نوجوانوں کو جو تحریک دی ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔”
0
