0

پہلگام دہشت گردانہ حملہ کیس: پاکستان کی سرپرستی میں لشکرِ طیبہ/ٹی آر ایف کی سازش بے نقاب

سری نگر،15دسمبر(یو این آئی) قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے پہلگام میں پیش آئے دہشت گردانہ حملے کے معاملے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر پاکستان کی سرپرستی میں رچائی گئی دہشت گردانہ سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے خصوصی این آئی اے عدالت جموں میں تفصیلی چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔ این آئی اے کی جانب سے داخل کی گئی 1597 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ میں کالعدم دہشت گرد تنظیم لشکرِ طیبہ اور اس کی ذیلی ونگ(ٹی آر ایف) کو بطور تنظیم ملزم نامزد کیا گیا ہے۔
چارج شیٹ کے مطابق، پہلگام حملہ ایک منظم اور منصوبہ بند کارروائی تھی، جس کا مقصد مذہبی بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے جموں و کشمیر میں خوف و ہراس پھیلانا اور سیاحت کو نقصان پہنچانا تھا۔
این آئی اے نے اپنی تفتیش میں پاکستان میں مقیم دہشت گرد ہینڈلر ساجد جٹ کو سازش کا کلیدی کردار قرار دیا ہے، جس نے سرحد پار سے حملے کی منصوبہ بندی، مالی معاونت اور دہشت گردوں کو ہدایات فراہم کیں۔ چارج شیٹ میں ان تین پاکستانی دہشت گردوں کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں جو حملے کے بعد جولائی 2025 میں سری نگر کے داچھی گام علاقے میں آپریشن مہادیو کے دوران سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ ان کی شناخت فیصل جٹ عرف سلیمان شاہ، حبیب طاہر عرف جبران اور حمزہ افغانی کے طور پر ہوئی ہے۔
این آئی اے کے مطابق، لشکرِ طیبہ/ٹی آر ایف اور مذکورہ دہشت گردوں کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا 2023، آرمز ایکٹ 1959 اور غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ 1967 سمیت بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے سے متعلق دفعات عائد کی گئی ہیں۔
تحقیقات کے دوران دہشت گردوں کو پناہ دینے کے الزام میں گرفتار کیے گئے پرویز احمد اور بشیر احمد کو بھی چارج شیٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ این آئی اے کا کہنا ہے کہ ان دونوں نے دورانِ تفتیش دہشت گردوں کے پاکستانی ہونے اور لشکرِ طیبہ سے وابستگی کی تصدیق کی ہے۔
این آئی اے نے واضح کیا ہے کہ یہ کیس بدستور تفتیش کے مرحلے میں ہے اور آئندہ مزید گرفتاریوں کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں