سری نگر،28جنوری(یو این آئی)وادی کشمیر میں بھاری برف باری نے جہاں عام زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے وہیں ایسے سخت ماحول میں جموں و کشمیر پولیس اور محکمہ صحت اوردیگر ادارے عوام کے لیے حقیقی معنوں میں ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو رہے ہیں۔ برف سے ڈھکی سڑکیں، منقطع رابطے، پھنسے ہوئے مریض اور عملاً بند مواصلاتی نظام نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ ہنگامی صورتحال میں پولیس اور طبی عملہ ہی وہ فورسز ہیں جو ہر مشکل کے باوجود عوام کی جان بچانے کے لیے پیش پیش رہتے ہیں۔
بارہمولہ، سوپور، کپوارہ، گاندربل اور کولگام سمیت متعدد اضلاع میں پولیس نے بروقت کارروائیاں انجام دے کر نہ صرف زندگیاں بچائیں بلکہ برفانی آفات کے بیچ انسانی مدد کی بہترین مثال قائم کی۔
بارہمولہ کے وترگام علاقے میں کریری پولیس کو اس وقت ہنگامی کال موصول ہوئی جب مقامی خاتون گلشن بیگم دردِ زہ کے باعث شدید تکلیف میں تھیں۔ بھاری برف باری کے باوجود پولیس ٹیم فوری طور پر موقعے پر پہنچی اور انہیں محفوظ طریقے سے سب ڈسٹرکٹ اسپتال منتقل کیا۔ اسی ضلع کے منگام علاقے میں برف سے بوجھل چھت گرنے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے عبدالرحمان شاہ کو بھی پولیس نے بروقت ریسکیو کر کے طبی امداد فراہم کی۔ تھندمہ علاقے میں دو سالہ کمسن بچی بے ہوش ہوجانے کے بعد فوری علاج کی محتاج تھی، پولیس نے رکاوٹوں کے باوجود اسے ہسپتال منتقل کر کے اس کی جان بچائی۔
کنزر میں ایک ایمبولینس برف میں دھنس گئی تھی جس میں ایک ہنگامی مریض کو اسپتال لے جایا جا رہا تھا۔ اس موقع پر مقامی تحصیلدار نے خود برف میں اتر کر ایمبولینس کو دھکیلنے میں مدد کی اور راستہ صاف کر کے مریض کو اسپتال تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
سوپور کے سنگرامہ علاقے میں برف نے راستے مکمل طور پر بند کر دیے تھے۔ اسی دوران ایک گھر میں فوتگی واقع ہوئی، اور پولیس اہلکاروں نے انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پا دہ چل کر میت کو گھر سے باہر نکالا تاکہ اسے اوڑی لے جا کر آخری رسومات ادا کی جا سکیں۔ مقامی لوگوں نے پولیس کی اس مدد کو مشکل وقت میں ’بڑی راحت‘ قرار دیا۔
ہندوارہ کے ہرنی پورہ علاقے میں ضعیف زیبہ بیگم شدید برف باری میں پھنس گئی تھیں۔ پولیس نے جے سی بی مشین تعینات کر کے برف ہٹا کر خاتون کو محفوظ مقام پر منتقل کیا اور پھر انہیں اسپتال پہنچایا۔
گاندربل میں پولیس نے پھنسے ہوئے گاڑیوں کو نکالنے کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو بھی محفوظ راستوں کی طرف منتقل کیا۔ ادھر کولگام میں پولیس نے نیوگ ٹنل کے نزدیک پھنسے ہوئے ایمبولینس کو دھکا دے کر راستہ بنایا اور بیہی باغ سے ایک 80 سالہ مریض کو سرکاری گاڑی میں یارپورہ اسپتال پہنچایا۔
ادھر چرار شریف میں گزشتہ دو دنوں کے دوران برف باری میں پھنسے ہوئے کم از کم ایک درجن مریضوں کو اسپتال پہنچایا گیا۔ بلاک میڈیکل آفیسر چرار شریف ڈاکٹر تصور نے یو این آئی کو بتایا کہ گزشتہ تین دنوں سے ڈاکٹر، نیم طبی عملہ اور ڈرائیور چوبیس گھنٹے ڈیوٹی پر مستعد ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دور دراز پہاڑی علاقوں میں برف کی وجہ سے مکمل طور پر منقطع رابطے کے باوجود عملے نے مریضوں کو ہسپتال منتقل کر کے ان کی جان بچائی۔
پولیس نے وادی بھر میں ہنگامی کنٹرول روم قائم کیے ہیں جہاں سے ریسکیو ٹیمیں چوبیس گھنٹے تعینات ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوراً قائم شدہ ہیلپ لائن نمبروں پر رابطہ کریں۔
0
