تل ابیب،14 مارچ (یو این آئی) اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی تازہ ترین ویڈیو، جو جمعہ 13 مارچ 2026 کو اپلوڈ کی گئی، سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گئی ہے۔
عوام کی توجہ اس ویڈیو میں نیتن یاہو کی چھ انگلیاں ہونے کی ممکنہ شکل کی طرف مبذول ہوئی، اس نے صارفین کے درمیان قیاس آرائیوں کو جنم دیا کہ یہ ویڈیو شاید ڈیپ فیک یا مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ہو سکتی ہے۔
اس سے قبل، نیتن یاہو کے بارے میں یہ افواہ بھی گردش کر رہی تھی کہ وہ ایرانی حملے میں مرچکے ہیں، اس سے پہلے نیتن یاہو کی آخری ویڈیو 8 مارچ 2026 کو اپلوڈ کی گئی تھی۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم کا سرکاری ایکس اکاؤنٹ معمول کے مطابق تقریباً روزانہ اپنے رہنما کے تازہ ترین ویڈیو بیانات شیئر کرتا ہے۔
یہ ویڈیو آتے ہی نیتن یاہو ایک مرتبہ پھر موت کی افواہوں کا موضوع بن گئے ہیں، اس پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں کا سیلاب آ گیا اور بعض لوگوں نے دعویٰ کیا کہ یہ ویڈیو اے آئی کی مدد سے تیار کی گئی ہے اور یہ کہ اسرائیلی وزیر اعظم کا انتقال ہو چکا ہے۔
یہ افواہیں تیزی سے وائرل ہو گئیں اور کچھ پیغامات میں یہ شبہ ظاہر کیا گیا کہ نیتن یاہو زندہ نہیں ہیں اور حکام حقیقت چھپانے کے لیے اے آئی سے تیار کردہ مواد استعمال کر رہے ہیں۔
تاہم ان دعوؤں میں سے کسی کی بھی ٹھوس طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔ فیکٹ چیکنگ میں ایسا کوئی قابلِ اعتماد ثبوت نہیں ملا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم مر چکے ہیں یا یہ ویڈیو جعلی ہے۔
تفصیلی حقائق کی جانچ اور مصدقہ ذرائع کے مطابق نیتن یاہو اب بھی زندہ ہیں اور ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران عوامی سطح پر نمودار بھی ہو رہے ہیں۔
0
