نئی دہلی، 28 مارچ (یو این آئی) ہندوستان نے عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) میں اتفاقِ رائے کی بنیاد پر فیصلے کے نظام کو مستحکم رکھنے اور تجارت کے پچھلے ادوار کے معاہدوں میں ان ناہمواریوں کو دور کرنے پر زور دیا ہے، جو ترقی پذیر ممالک کے مفادات کے خلاف کام کر رہی ہیں۔
کیمرون کے شہر یاؤنڈے میں جاری ڈبلیو ٹی او کی چودھویں وزارتی کانفرنس کے دوسرے دن رکن ممالک کے وزرائے تجارت کے اجلاس میں ہندوستانی وفد کے قائد اور وزیرِ تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا کہ اتفاقِ رائے سے فیصلے کا نظام ڈبلیو ٹی او کے جواز کی بنیاد ہے۔ اس اجلاس میں وزراء نے ڈبلیو ٹی او کے طریقہ کار میں اصلاحات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈبلیو ٹی او کی اصلاحات میں ‘یوراگوئے راؤنڈ’ سے پیدا ہونے والی ناہمواریوں کا حل ہونا چاہیے۔ ‘پہلے سے طے شدہ ایجنڈے سمیت فیصلہ سازی کے عمل’ کے معاملے پر بات کرتے ہوئے، مسٹر گوئل نے واضح کیا کہ اتفاقِ رائے پر مبنی فیصلہ سازی کثیر جہتی تنظیم کی ساکھ کے لیے ناگزیر ہے، اور یہ اہم ہے کہ یہ تنظیم اراکین کے خودمختار حقوق کو نظر انداز نہ کرے اور ایسے قوانین مسلط کرنے کی کوشش نہ کی جائے جن پر عام رضامندی نہ ہو۔
اتفاقِ رائے سے فیصلہ کرنے میں پیش آنے والے چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے اعتماد کی بحالی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، ہندوستان نے اس بات پر زور دیا کہ ڈبلیو ٹی او کو موجودہ تعطل اور اس کی بنیادی وجوہات کا احتیاط سے جائزہ لینا چاہیے، اور یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ تمام بحث و مباحثہ شفاف، ہمہ گیر اور رکن ممالک کے زیرِ انتظام ہو۔ ہندوستان نے یہ بھی کہا کہ ایک مربوط کثیر جہتی تجارتی نظام اپنے ادارہ جاتی ڈھانچے کے اندر تصادم کے رہتے ہوئے ترقی نہیں کر سکتا۔
اس اجلاس میں اراکین کو ‘مساوی مواقع ملنے کے مسائل’ پر مسٹر گوئل نے کہا کہ بات چیت میں یوراگوئے راؤنڈ کی ناہمواریوں کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے غذائی تحفظ، عوامی تحفظ کے معیارات اور کپاس جیسے طویل عرصے سے زیرِ التواء مسائل کو ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیا، ساتھ ہی ڈھانچہ جاتی عدم مساوات کو دور کرنے کے لیے نئے امور پر غور کرنے کی بھی اپیل کی۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے تنازعات کے حل کے نظام کی مسلسل خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے، ہندوستان نے کہا کہ موثر عدالتی فیصلے کے بغیر قوانین اپنا اثر کھو دیتے ہیں، جس سے چھوٹے ممالک کو غیر متناسب نقصان ہوتا ہے۔ ہندوستان نے تجارتی انتقام کو جائز قرار دینے یا جائز مقامی پالیسیوں کو چیلنج کرنے کے لیے شفافیت کے غلط استعمال کے خلاف بھی خبردار کیا۔ ہندوستان کا موقف ہے کہ اس کے بجائے، اسے بامعنی اور مستقل صلاحیت سازی کی امداد کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے، تاکہ تمام اراکین منصفانہ اور مؤثر طریقے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کر سکیں۔
کانفرنس کے دوسرے دن کا اختتام ڈبلیو ٹی او اصلاحات کی شفافیت پر وزارتی مکمل اجلاس کے ساتھ ہوا۔ اس سیشن میں کامرس سکریٹری راجیش اگروال نے ٹھوس شواہد کے تجزیے، تجاویز اور وزارتی فیصلوں کی بنیاد پر، مقررہ اہداف کے ساتھ وقت کے پابند اصلاحاتی کوششوں کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے ہندوستان کی حمایت کا اظہار کیا۔ ہندوستان نے واضح طور پر مخصوص مسائل کو چننے اور پہلے سے طے شدہ یا متعصبانہ نقطہ نظر کو فروغ دینے سے بچنے کا مطالبہ کیا۔ مسٹر اگروال نے کثیر جہتی تجارتی نظام کی تقسیم کے خلاف خبردار کرتے ہوئے اتفاقِ رائے کے عمل کو کھلے پن، شفافیت اور رکن ممالک کے زیرِ اثر اصولوں پر مبنی کرنے پر زور دیا۔
کانفرنس کے دوسرے دن الگ الگ دوطرفہ ملاقاتوں کے دوران، مسٹر گوئل نے امریکہ، چین، کوریا، سوئٹزرلینڈ، نیوزی لینڈ، کینیڈا، مراکش اور عمان کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ یہ ملاقاتیں کانفرنس کے ایجنڈے کے ساتھ ساتھ دوطرفہ تجارتی تعلقات کو گہرا کرنے پر مرکوز تھیں۔ ڈبلیو ٹی او کانفرنس 26 مارچ کو شروع ہوئی تھی اور 29 مارچ کو اختتام پذیر ہوگی۔
