جموں،11فروری (یو این آئی) جموں و کشمیر اسمبلی میں ایک تحریری سوال کے جواب میں حکومت نے واضح کیا ہے کہ موجودہ وقت میں مرکز کے زیر انتظام علاقے جموں و کشمیر کے پاس پاور پروجیکٹس کی واپسی یا ان کی منتقلی کے حوالے سے کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔
رکن اسمبلی عرفان حفیظ لون کے سوال پر پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے وزارتِ بجلی یا دیگر مرکزی وزارتوں کے ساتھ کوئی معاملہ زیر غور نہیں ہے۔
محکمہ نے بتایا کہ پاور پروجیکٹس کی واپسی کا معاملہ مکمل طور پر حکومت ہند کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور فی الوقت ایسی کوئی اطلاع یا پیش رفت جموں و کشمیر حکومت کے پاس موجود نہیں ہے۔
حکومتی جواب کے ساتھ پاور ڈیولپمنٹ ڈیارٹمنٹ نے ریاست میں موجود مختلف سرکاری، مرکزی اور نجی بجلی پروجیکٹس کی تازہ صورتحال بھی ایوان کے سامنے پیش کی۔
اعداد و شمار کے مطابق یوٹی سیکٹر کے تحت بگلیہار-فسٹ اور بگلیہار-سکینڈ سمیت لوئر جھلم، اپر سندھ-سکینڈ اور گاندربل پاور پلانٹ جیسے اہم منصوبے فعال ہیں۔ تاہم چند پروجیکٹس جیسے چنینی سیکنڈ- اور سوا-تھرڈ اگست 2025 کی تباہ کن سیلابوں کے بعد اب بھی شٹ ڈاون کی حالت میں ہیں۔
مرکزی سیکٹر خصوصاً این ایچ پی سی کے پروجیکٹس میں سلال، اوڑی-I، دُل ہستی، کشن گنگا اور اوڑی-II جیسی ہائیڈرو پاور تنصیبات معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں، جبکہ کہیں جزوی رکاوٹیں بھی برقرار ہیں۔
اسی طرح نجی شعبے میں ڈوڈہ، پونچھ، بانڈی پورہ، گاندر بل اور بڈگام میں قائم چھوٹے ہائیڈل پروجیکٹس بھی زیادہ تر فعال ہیں، تاہم بعض منصوبے زیر تعمیر بڑی اسکیموں کے سبب التوا یا بندش کا شکار ہیں۔
ایوان میں پیش کی گئی تفصیلات سے واضح ہوتا ہے کہ جموں و کشمیر میں بجلی کی پیداوار کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری کے لیے متعدد پروجیکٹس موجود ہیں، مگر مرکز اور یو ٹی حکومت کے درمیان پاور پروجیکٹس کی ملکیت یا واپسی کے معاملے میں اس وقت کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔
0
