0

امریکہ سے تجارتی معاہدہ کسانوں کے لیے تباہ کن طوفان ہوگا: راہل گاندھی

نئی دہلی، 11 فروری (یو این آئی) لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے امریکہ کے ساتھ کیے گئے تجارتی معاہدے کے حوالے سے وزیراعظم نریندر مودی پر براہِ راست حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے امریکہ کی تمام شرائط تسلیم کر کے ہندوستانی کسانوں کو ایک ایسے طوفان میں جھونک دیا ہے جس سے ملک کی زراعت اور معیشت داؤ پر لگ گئی ہے۔بدھ کے روز بجٹ 27-2026 پر بحث کے دوران حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ جس نوعیت کا معاہدہ کیا گیا ہے، ایسا معاہدہ نہ تو پہلے کبھی کسی وزیراعظم نے کیا اور نہ ہی مستقبل میں کوئی کرے گا۔ اس معاہدے میں مکمل طور پر خودسپردگی کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے میں ہمارے تئیں امریکہ کی کوئی وابستگی نظر نہیں آتی اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں بیوقوف بنایا گیا ہے۔ ہندوستانی مصنوعات پر پہلے ڈیوٹی 3فیصد تھی جسے اب بڑھا کر 18فیصد کر دیا گیا ہے، جبکہ امریکی درآمدات پر ڈیوٹی جو 16فیصد تھی، اسے اب صفر کر دیا گیا ہے۔ اس سے ہماری ٹیکسٹائل کی صنعت مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی کیونکہ صدر ٹرمپ نے بنگلہ دیش سے ہونے والی امریکی درآمدات پر ڈیوٹی پہلے ہی ختم کر دی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ انتہائی حیران کن امر ہے کہ اب امریکہ یہ طے کرے گا کہ ہم تیل کہاں سے خریدیں گے اور وہ اس پر نگرانی بھی رکھے گا۔ ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار کسان ایک طوفان کا سامنا کر رہے ہیں۔ امریکی زرعی مصنوعات کے لیے بازار کھول دیا گیا ہے جو کہ انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ حکومت نے ہندوستان کو فروخت کردیا ہے، ہماری ‘بھارت ماتا’ کا سودا کر دیا گیا ہے۔ اس میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیراعظم عام حالات میں یہ معاہدہ نہیں کر سکتے تھے، اس کے پیچھے اصل وجوہات کچھ اور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر انڈیا اتحاد کی حکومت ہوتی اور وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مذاکرات کرتے، تو سب سے پہلے یہ بات کرتے کہ ہندوستان کا ‘ڈیٹا’ سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اگر وہ ہمارا ڈیٹا استعمال کرنا چاہتے ہیں تو بات برابری کی سطح پر ہوگی۔ توانائی کا تحفظ ہماری ترجیح ہے اور ہم اسے ہر حال میں یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے کسانوں کو بھی تحفظ فراہم کرنا چاہتے ہیں، اس کے بعد ہی مساوی سطح پر بات چیت ممکن ہے۔ موجودہ حکومت نے تجارت کا مکمل کنٹرول امریکہ کے حوالے کر دیا ہے۔

مسٹر گاندھی کا کہنا تھا کہ ہماری سب سے بڑی طاقت ہمارے عوام ہیں۔ ہندوستان کے 1.4 ارب عوام باصلاحیت، متحرک اور ذہین ہیں، جو کسی کو بھی چیلنج دے سکتے ہیں۔ یہ صرف لوگ نہیں ہیں بلکہ ہمارے پاس ڈیٹا کا ایک بڑا ذخیرہ بھی ہے۔ سب لوگ اے آئی کی بات کرتے ہیں، لیکن اے آئی کے بارے میں بات کرنا کسی انجن کے بارے میں بات کرنے جیسا ہے، اس کا ایندھن یعنی ‘ڈیٹا’ بھی اہم ہے۔ اگر آپ کے پاس ڈیٹا نہیں ہے تو اے آئی بھی بے کار ہے۔ اس وقت دنیا میں ڈیٹا کے دو بڑے ذخائر ہیں؛ ایک ہندوستان کا (1.4 ارب لوگوں کا) اور دوسرا چین کا۔ یعنی ہم ڈیٹا کے معاملے میں ایک بڑی طاقت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دوسری طرف ڈالر کو چیلنج مل رہا ہے اور امریکی برتری کو خطرات لاحق ہیں۔ اب ہم دو سپر پاورز یا کثیر قطبی دنیا کے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ اقتصادی سروے کی بات درست ہے کہ ان سب کے مرکز میں اے آئی کا دور ہے۔ اس سے آئی ٹی کے شعبے اور انجینئرز کو بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں توانائی اور مالیات کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہم استحکام سے عدم استحکام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ وزیراعظم اور این ایس اے نے کچھ عرصہ قبل حیران کن طور پر کہا تھا کہ جنگ کا دور اب ختم ہو چکا ہے، لیکن یوکرین اور ایران میں تنازعات جاری ہیں۔ یعنی ہم استحکام سے عدم استحکام کی جانب جا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں