سری نگر،16فروری(یو این آئی) جموں و کشمیر میں سیاحتی سرگرمیوں کو بحال کرنے اور عوامی اعتماد کو مزید تقویت دینے کے مقصد سے انتظامیہ نے پیر کے روز ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کشمیر اور جموں میں بند کیے گئے 14 مقبول سیاحتی مقامات کو فوراً دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک جامع سیکیورٹی جائزے اور اعلیٰ سطحی مشاورتی عمل کے بعد لیا گیا۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے دفتر کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ متعدد مقامات کو احتیاطی طور پر بند کیا گیا تھا، تاہم تازہ ترین سیکیورٹی جائزے میں اطمینان بخش رپورٹ سامنے آنے کے بعد ان مقامات کو دوبارہ کھولنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
بیان کے مطابق کشمیر ڈویژن کے 11 اہم سیاحتی مراکز، جن میں یوسمرگ، دودھ پتھری (بڈگام)، ڈنڈی پورہ پارک (کوکرناگ)، پیر کی گلی، دوبجن اور پادپون (شوپیان)، آستان پورہ، ٹیولپ گارڈن (سرینگر)، تھاجواس گلیشیئر، ہنگ پارک (گاندربل) اور ولر/واٹلب (بارہمولہ) شامل ہیں، فوری طور پر کھول دیے جائیں گے۔
جموں ڈویژن میں بھی تین مقامات — دیوی پنڈی (ریاسی)، ماہو منگت (رامبن) اور مغل میدان (کشتواڑ) — کے لیے اسی نوعیت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان تمام مقامات پر سیاحوں کی آمد کے لیے سیکیورٹی، ٹریفک اور انتظامی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ چیلنج سے نمٹا جا سکے۔
بیان میں مزید بتایا گیا کہ چار مزید مقامات، جن میں کشمیر ڈویژن کے گریز، اتھواتو اور بنگس جبکہ جموں ڈویژن کا رام کنڈ شامل ہے، کو برف ہٹتے ہی کھول دیا جائے گا۔ ان علاقوں میں اس وقت برف باری کے باعث سڑکوں پر رکاوٹیں موجود ہیں تاہم محکمہ مشینری ان رکاوٹوں کو دور کرنے میں مصروف ہے۔
سیاحتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے خطے کی معیشت کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا کیونکہ سیاحت نہ صرف مقامی روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ ہے بلکہ کشمیر اور جموں کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے بندشوں کے باعث سیاحتی کاروبار متاثر ہوا تھا، لیکن انتظامیہ کے اس فیصلے سے امید کی جا رہی ہے کہ سیاحوں کی آمد ایک بار پھر بڑھ جائے گی۔
اہم بات یہ ہے کہ ان مقامات کی بحالی سے نہ صرف ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹرز اور مقامی دکانداروں کو فائدہ ہوگا بلکہ سیاحت سے جڑے ہزاروں خاندانوں کو بھی معاشی سہارا ملے گا۔
0
