0

دفعہ 370 ہٹانے کے بعد جموں و کشمیر میں روزگارمیں اضافہ: کرندلاجے

نئی دہلی، 12 فروری (یو این آئی) حکومت نے جمعرات کو راجیہ سبھا میں کہا کہ جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹنے کے بعد مرکز کے زیر انتظام علاقے میں روزگار میں اضافہ ہوا ہے اور بے روزگاری میں کمی آئی ہے۔
محنت و روزگار کی وزیر مملکت شوبھا کرندلاجے نے وقفہ سوالات کے دوران ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ مالی سال 20-2019 میں ملک میں بے روزگاری کی شرح 4.8 فیصد تھی جو 24-2023 میں گھٹ کر 3.2 فیصد رہ گئی۔ اس دوران جموں و کشمیر میں یہ شرح 6.7 فیصد سے کم ہو کر 6.1 فیصد پر آ گئی ہے۔ اس عرصے کے دوران مرکز کے زیر انتظام علاقے میں جہاں پرائمری سطح (پانچویں جماعت) تک تعلیم یافتہ افراد کی بے روزگاری کی شرح 0.4 فیصد سے بڑھ کر 0.6 فیصد ہو گئی، وہیں اس سے زیادہ تعلیم حاصل کرنے والے افراد کی بے روزگاری کی شرح میں کمی آئی ہے۔
ایک ضمنی سوال کے جواب میں محترمہ کرندلاجے نے بتایا کہ ایمپلائز پراویڈنٹ فنڈ کے تحت پچھلے سال جموں و کشمیر میں 1.60 لاکھ نئے ملازمین جڑے تھے۔ ادیم پورٹل پر جموں و کشمیر کے 8.2 لاکھ درمیانے اور چھوٹے اداروں نے رجسٹریشن کرایا تھا جنہوں نے بتایا ہے کہ ان کے ہاں 32.30 لاکھ لوگ روزگار حاصل کر رہے ہیں۔ کریڈٹ گارنٹی یوجنا کے تحت 40,390 کروڑ روپے کا قرض دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پردھان منتری وشوکرما یوجنا کے تحت جموں و کشمیر کے 1.5 لاکھ لوگوں نے درخواست دی تھی جن میں سے 1.3 لاکھ لوگوں کو تربیت دی گئی، 90 ہزار لوگوں کو تربیت کے بعد ٹول کٹ تقسیم کی گئیں اور 14,375 لوگوں کو اپنے کاروبار کو آگے بڑھانے کے لیے قرض دیے گئے۔
ایک اور ضمنی سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں نو کلسٹر تیار کیے جا رہے ہیں جس سے مقامی مصنوعات کو فروغ ملے گا، ان کی برآمد بھی ہوگی اور وہاں کے لوگوں کو روزگار بھی ملے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں