سری نگر،18فروری (یو این آئی) جموں و کشمیر کے کرکٹ حلقوں میں آج جشن کا ماحول ہے کیونکہ ریاست کی ٹیم نے رنجی ٹرافی کی تاریخ میں پہلی بار فائنل میں داخل ہو کر وہ کارنامہ انجام دیا ہے جس کا برسوں سے انتظار تھا۔ جموں وکشمیر کرکٹ ٹیم نے سیمی فائنل میں انتہائی مضبوط سمجھی جانے والی بنگال کرکٹ ٹیم کو چھ وکٹوں سے شکست دے کر یہ شاندار کامیابی حاصل کی۔
یہ جیت صرف ایک میچ کی جیت نہیں بلکہ تاریخی سفر کی کامیاب منزل ہے، جس میں نوجوان کھلاڑیوں نے اپنی محنت اور عزم کے ذریعے ٹیم کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ اس کامیابی میں سب سے اہم کردار نوجوان فاسٹ بالر عاقب نبی نے ادا کیا، جنہوں نے میچ میں کل نو وکٹیں حاصل کر کے بنگال کی تجربہ کار بیٹنگ لائن اپ پر تباہی مچا دی۔
پہلی اننگ میں عاقب نبی نے برق رفتاری اور درست لائن پر بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ بلے بازوں کو آوٹ کیا، جبکہ دوسری اننگ میں چار وکٹیں حاصل کرکے بنگال کی مزاحمت کا آخری سہارا بھی چھین لیا۔ ان کے ساتھ بائیں ہاتھ کے فاسٹ بالر سنیل کمار بھی شاندار فارم میں نظر آئے اور میچ میں سات وکٹیں حاصل کیں۔ دونوں گیند بازوں کی اس بہترین جوڑی نے حریف ٹیم کے لیے اس اسکور کو بھی مشکل بنا دیا جو عام طور پر آسان ہدف سمجھا جاتا ہے۔
کھیل کے آخری روز جموں و کشمیر نے 43 رنز پر دو وکٹوں کے نقصان سے اپنی اننگ کا آغاز کیا۔ شبھم پنڈیر کے جلد آؤٹ ہونے کے بعد نائٹ واچ مین ونشج شرما نے انتہائی ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 43 اہم رنز بنائے اور ٹیم کو ہدف کے قریب پہنچایا۔ کپتان پارس ڈوگرا اگرچہ بڑی اننگ نہ کھیل سکے، مگر ان کی موجودگی نے بیٹنگ میں استحکام پیدا کیا۔
اس کے بعد کریز پر آنے والے جارح بلے باز عبدالصمد نے آتے ہی بنگال کے گیندبازوں کو دباؤ میں ڈال دیا۔ مختصر مگر شاندار اننگ کھیلتے ہوئے عبدالصمد نے چوکے اور چھکے لگا کر بنگال کے حوصلے پست کیے اور 29 رنز کی اننگ کے ذریعے ٹیم کو صرف ایک سیشن میں ہدف تک پہنچا دیا۔ ان کی یہ اننگ نہ صرف میچ کے لیے اہم ثابت ہوئی بلکہ تیز رفتار بیٹنگ کے حوالے سے ان کے آئی پی ایل کے تجربے کی جھلک بھی دکھائی۔
سیمی فائنل میں جیت درج کرکے جموں و کشمیر ٹیم نے اس حقیقت کو ثابت کیا ہے کہ صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں، بس موقع ملنے اور اعتماد پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ فتح ریاست کے نوجوان کرکٹروں کے لیے تحریک کا باعث بنے گی اور کرکٹ کے شعبے میں آگے بڑھنے کے مواقع زیادہ ہوں گے۔
اب ساری نگاہیں رنجی ٹرافی کے فائنل پر مرکوز ہیں، جہاں جموں و کشمیر کی ٹیم اپنی شاندار فارم کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کا ایک اور سنہرا باب رقم کرنے کی کوشش کرے گی۔
