0

کشمیری زبان کے فروغ کی کوششیں تیز، نصاب اور عملے کی صورتحال ایوان میں پیش

جموں،12فروری (یو این آئی) جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں جمعرات کو کشمیری زبان کی تدریس سے متعلق ایک اہم سوال کے جواب میں حکومت نے تفصیلی معلومات پیش کی ہیں۔
رکن اسمبلی مبارک گل کے سوال کے جواب میں محکمۂ تعلیم نے بتایا کہ کشمیری زبان کو باقاعدہ طور پر اسکولوں میں ایک مضمون کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے اور اس کی تدریس اس وقت کشمیر ڈویژن کے متعدد ہائر سیکنڈری اداروں میں کی جا رہی ہے، تاہم جموں ڈویژن کے کسی بھی اسکول میں کشمیری بطور مضمون شامل نہیں ہے۔
سرکاری دستاویز کے مطابق کشمیری زبان کو 2009 سے پہلے ہی محدود سطح پر درس و تدریس کا حصہ بنایا گیا تھا۔ سال 2009 میں حکومت کے آرڈر نمبر 28- کے تحت مزید 10 اسامیوں کو منظوری دی گئی جبکہ 2018 میں اپ گریڈیشن آرڈر نمبر 731- کے تحت 4 نئی اسامیاں قائم کی گئیں۔ بعد ازاں، سال 2019 میں مزید اسامیوں کی تخلیق عمل میں آئی جس کے نتیجے میں ہائر سیکنڈری سطح پر کشمیری لیکچررز کی مجموعی منظور شدہ تعداد 27 تک پہنچ گئی۔
محکمہ تعلیم نے یہ بھی واضح کیا کہ کشمیر ڈویژن کے 27 ہائر سیکنڈری اسکولوں میں کشمیری مضمون باقاعدہ پڑھایا جا رہا ہے۔ ان اداروں میں سری نگر، اننت ناگ، بارہمولہ، بانڈی پورہ، بڈگام، گاندربل، کولگام، کپواڑہ، پلوامہ اور شوپیاں کے مختلف ہائر سیکنڈری اسکول شامل ہیں۔ ہر ادارے میں ایک ایک لیکچرر کی اسامی منظور شدہ ہے۔
عملے کی دستیابی کے حوالے سے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق 27 منظور شدہ اسامیوں میں سے 22 لیکچررز اس وقت تعینات ہیں جبکہ 5 اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ بڈگام، اننت ناگ، بارہمولہ، گاندربل اور سری نگر میں ایک ایک اسامی پر تقرری نہ ہونے کی وجہ سے تدریسی عمل متاثر ہے، تاہم محکمہ کا کہنا ہے کہ خالی اسامیوں کو جلد پُر کرنے کی کارروائی جاری ہے۔
حکومت نے ایوان کو مزید بتایا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت کشمیری زبان کے فروغ، نصاب کی ترقی اور اس کے مؤثر نفاذ کے لیے کام تیزی سے جاری ہے۔ یہ عمل چیف ایجوکیشن آفیسر سطح پر ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن کشمیر کی نگرانی میں انجام دیا جا رہا ہے تاکہ کشمیری زبان کو تعلیمی ڈھانچے میں مضبوط بنیاد فراہم کی جا سکے اور طلبہ کو مادری زبان کی تعلیم مؤثر طریقے سے مہیا ہو۔
محکمہ تعلیم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کشمیری زبان نہ صرف ثقافتی ورثے کا اہم حصہ ہے بلکہ نئی تعلیمی پالیسی مادری زبانوں کے تحفظ اور فروغ کو اولین ترجیح دیتی ہے۔ اسی سلسلے میں نصاب کی تیاری، اساتذہ کی تربیت اور تدریسی مواد کی بہتری پر بھی مسلسل کام کیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں