جموں،11فروری (یو این آئی) جموں و کشمیر اسمبلی میں ایک تحریری جواب میں حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ سری نگر کے کئی علاقوں میں شدید بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسائل بدستور برقرار ہیں حالاں کہ شہر کو اسمارٹ سٹی کے طور پر نامزد کیا جا چکا ہے۔ سرکاری جواب میں واضح کیا گیا کہ بھاری بارش کے وقت متعدد مقامات پر ڈرینیج اوور فلو ہو جاتا ہے، جس کے سبب فوری طور پر موبائل ڈی واٹرنگ پمپ اور عملہ تعینات کرنا پڑتا ہے۔
سرکار کے مطابق ٹی آر سی، گول مارکیٹ، فروٹ منڈی، ایچ ایم ٹی، پالپورہ، گنڈ حسن بٹ، عمرآباد سمیت کئی علاقوں میں نکاسیٔ آب کی رکاوٹیں پانی جمع ہونے کی بڑی وجہ ہیں، جنہیں دستی مشقت اور پمپنگ کے ذریعے وقتی طور پر حل کیا جاتا ہے۔
حکومت نے بتایا کہ اسمارٹ سٹی مشن کے تحت سرینگر، حیدرپورہ، زینکوٹ اور لاوے پورہ علاقوں میں مختلف اسٹورم ڈرینیج پروجیکٹس تجویز کیے گئے تھے، تاہم ان میں سے متعدد منصوبے متعلقہ محکموں سے این او سی نہ ملنے کے سبب آگے نہیں بڑھ سکے۔
محکمہ نے بتایا کہ مول چند علاقے کے منصوبوں کے لیے مطلوبہ این او سی محکمہ فلڈ کنٹرول نے مسترد کر دی ہے، جس کی وجہ سے کام شروع نہیں ہو پایا۔ اسی طرح عمرآباد اور شانتی نگر کے منصوبوں کے لیے بیکن سمیت دیگر محکموں سے چار اہم این او سی اب تک زیر التوا ہیں۔
زین کوٹ کے حوالے سے سرکاری جواب میں کہا گیا کہ ہوکرسر وائلڈ لائف اتھارٹی نے وہاں پر ڈرینیج پانی کی نکاسی کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے کیوں کہ علاقہ ماحولیات کے لحاظ سے انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بغیر متبادل راستہ دستیاب نہیں، جس کے سبب فائل کبھی سرفہرست ہی نہیں ہو پاتی۔
مزید برآں، محکمہ پی ایچ ای کی طرف سے بھی ایک اہم پروجیکٹ کی این او سی تاحال زیر التوا ہے، جس کی وجہ سے کام شروع کرنے میں مزید تاخیر ہو رہی ہے۔
0
