تہران، 08 اپریل (یو این آئی): امریکہ اور ایران کے درمیان 39 دنوں تک جاری رہنے والی کشیدگی اور جنگ کے بعد بالآخر دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی نافذ کر دی گئی ہے۔ امریکی صدر نے اس جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسے ‘عالمی امن کے لیے ایک عظیم دن’ قرار دیا ہے۔ اس دوران اس مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بدھ کی صبح مطلع کیا کہ جنگ بندی کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اس اہم اعلان سے محض چند گھنٹے قبل صدر ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو نہ کھولا تو آج رات ایک پوری تہذیب کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، یہ عارضی امن اب اس کلیدی شرط پر منحصر ہے کہ ایران اسٹریٹجک اعتبار سے انتہائی اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے گا، جس سے مستقبل کے مستقل حل کے لیے راہ ہموار ہوگی۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے اس معاہدے کے حوالے سے 10 نکاتی تجاویز کی تفصیلات فراہم کی ہیں، جو آئندہ ہونے والی بات چیت کی بنیاد بنیں گی۔ ان شرائط کے مطابق امریکہ اب ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی جارحیت نہیں کرے گا اور آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول برقرار رہے گا۔ مزید برآں، ایران کے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کیا جائے گا، اس پر عائد تمام امریکی بنیادی و ثانوی پابندیاں ختم کی جائیں گی، اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کی ایران مخالف تمام قراردادیں منسوخ کر دی جائیں گی۔ اس تجویز میں جنگ سے ہونے والے نقصانات کے لیے ایران کو معاوضے کی ادائیگی، خطے سے امریکی افواج کا انخلا، اور ایران نواز گروہوں پر حملوں کی بندش بھی شامل ہے۔ اس کے عوض ایران نے مالی معاوضے اور سویلین ایٹمی پروگرام کی منظوری کی شرط پر ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
اگرچہ فوجی انخلا اور پابندیوں کے خاتمے جیسے معاملات اب بھی ہندوستان سمیت عالمی برادری کے لیے تشویش کا باعث ہیں، تاہم امریکہ نے اسے بات چیت کے لیے ایک موزوں بنیاد قرار دیا ہے۔ جمعہ کو اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات اب عالمی امن کی نئی پہچان بن سکتی ہے۔
0
