0

جموں و کشمیر کا قرض 1.27 لاکھ کروڑ تک پہنچ گیا سی اے جی کی وارننگ: بڑھتا سودی بوجھ اور کم منافع مالی پائیداری کیلئے خطرہ

سرینگر//8اپریل// جموں و کشمیر میں عوامی قرض گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مسلسل بڑھتے ہوئے مالی سال 2024-25میں 1,27,216 کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے، جس پر کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا (سی اے جی) نے طویل مدتی مالی پائیداری کے حوالے سے سنگین خدشات ظاہر کیے ہیں۔تازہ آڈٹ رپورٹ کے مطابق یونین ٹیریٹری کی مجموعی ذمہ داریاں 2020-21میں 98,417 کروڑ روپے سے بڑھ کر موجودہ سطح تک پہنچ گئی ہیں، اگرچہ اس دوران قرض میں اضافے کی رفتار 10 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 7 فیصد رہ گئی ہے۔یو این ایس کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ مجموعی قرض میں اضافہ ہوا، تاہم ایک اہم اشاریہ یعنی قرض بمقابلہ جی ایس ڈی پی تناسب میں بہتری آئی ہے، جو 58.65 فیصد (2020-21) سے کم ہو کر 48.47 فیصد (2024-25) رہ گیا۔ یہ بہتری بنیادی طور پر معیشت کی شرح نمو میں اضافے کی وجہ سے ممکن ہوئی، خاص طور پر کووڈ کے بعد بحالی کے دوران سے یہ بہتری نظر آئی۔تاہم، سی اے جی نے خبردار کیا ہے کہ یہ بہتری بظاہر ہے اور اس کے پیچھے مالی دباو ¿ برقرار ہے۔ سودی ادائیگیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو 6,372 کروڑ روپے (2020-21) سے بڑھ کر 10,874 کروڑ روپے (2024-25) ہو گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سود بمقابلہ آمدنی تناسب بھی 12.14 فیصد سے بڑھ کر 14.62 فیصد تک پہنچ گیا، جو مستقبل میں مالی گنجائش کو متاثر کر سکتا ہے۔aدھار لینے کی لاگت میں بھی مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ قرض پر مو ¿ثر شرح سود 7.52 فیصد سے بڑھ کر 9.68 فیصد ہو گئی، جبکہ سرکاری سرمایہ کاری پر منافع اس کے مقابلے میں کم رہا۔ رپورٹ میں اس فرق کو ایک ساختی مسئلہ قرار دیا گیا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کی جانب سے دیے گئے قرض اور سرمایہ کاری مناسب منافع نہیں دے رہے۔لیکویڈیٹی مینجمنٹ کے حوالے سے کچھ بہتری ضرور دیکھی گئی، تاہم دباو ¿ برقرار ہے۔ حکومت نے 2020-21میں 318 دن جبکہ 2024-25میں 172 دن ریزرو بینک سے یڈوانس یا اوور ڈرافٹ لیا، جو قلیل مدتی قرضوں پر مسلسل انحصار کو ظاہر کرتا ہے۔رپورٹ کے مطابق تازہ قرضوں کا بڑا حصہ پرانے قرض کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے۔ مجموعی قرضوں کا 80 فیصد سے زائد حصہ سابقہ واجبات کی ادائیگی میں صرف ہوا، جس سے ترقیاتی اخراجات کیلئے گنجائش محدود ہو گئی۔ خالص قرض، جو ترقیاتی کاموں کیلئے دستیاب ہوتا ہے، 2022-23میں 9.25 فیصد تک گر گیا تھا، جو بعد میں بڑھ کر 2024-25میں 16.48 فیصد ہو گیا۔مثبت پہلوو ¿ں میں، پرائمری بیلنس میں بہتری دیکھی گئی ہے، جو ابتدائی برسوں میں خسارے میں تھا مگر اب سرپلس میں آ گیا ہے اور 2024-25میں 2,728 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ اسی طرح ریونیو اکاو ¿نٹ بھی 2022-23کے بعد سے سرپلس میں ہے۔سی اے جی کے مطابق معیشت کی شرح نمو کا قرض کی لاگت سے زیادہ ہونا ایک حد تک مالی استحکام کا باعث بنا، تاہم حالیہ برسوں میں مہنگائی میں کمی اور شرح سود میں اضافے کے باعث یہ فائدہ کم ہو رہا ہے۔رپورٹ میں ایک اور اہم مسئلہ وراثتی قرض کا بتایا گیا ہے، جو 82,050 کروڑ روپے سے زائد ہے اور ابھی تک جموں و کشمیر اور لداخ کے درمیان تقسیم نہیں ہوا، جس سے اصل قرض کی صورتحال غیر واضح رہتی ہے۔مشروط ذمہ داریاں بھی تشویش کا باعث ہیں۔ مارچ 2025 تک سرکاری ضمانتیں 23,622 کروڑ روپے تک پہنچ گئیں، جن میں سے 22,300 کروڑ روپے سے زائد صرف بجلی کے شعبے سے متعلق ہیں۔ رپورٹ میں ان اداروں کو دی گئی ضمانتوں پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے جن کی مالی حالت کمزور ہے، جس سے حکومت پر بوجھ بڑھ سکتا ہے۔سی اے جی نے مالی شفافیت میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ رسک ویٹڈ گارنٹیز کو بجٹ دستاویزات میں مکمل طور پر ظاہر نہیں کیا گیا، جو فنانشل ریسپانسبلٹی اینڈ بجٹ مینجمنٹ فریم ورک کی خلاف ورزی ہے۔مجموعی طور پر رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ کچھ مالی اشاریے بہتر ہوئے ہیں، لیکن بڑھتا ہوا قرض، سودی بوجھ، کم منافع، اور بڑی مشروط ذمہ داریاں اس بات کی متقاضی ہیں کہ حکومت محتاط مالی حکمت عملی اپنائے تاکہ طویل مدتی مالی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں