سرینگر: (عقاب نیوز ڈیسک)کشمیر کے سیاسی رہنماؤں نے امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان 39 دن کی جنگ کے بعد ہونے والی عارضی جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ “تنازعات کے حل کے لیے مکالمہ ہی واحد راستہ ہے۔”
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا: “پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بات چیت کے بعد، انہوں نے مجھ سے درخواست کی کہ ایران پر آج رات ہونے والی تباہ کن کارروائی کو روک دیا جائے، بشرطیکہ اسلامی جمہوریہ ایران فوراً، مکمل اور محفوظ طریقے سے آبنائے ہرمز کو کھولنے پر راضی ہو جائے۔”
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جو اس جنگ بندی پر ردعمل دینے والے پہلے سیاستدان تھے، نے سوال کیا کہ امریکہ نے اس جنگ سے کیا حاصل کیا؟ انہوں نے سماجی رابطہ گاہ ایکس پر لکھا: “جنگ بندی سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھل رہی ہے، جو جنگ سے پہلے سب کے لیے کھلی اور دستیاب تھی۔ تو پھر اس 39 دن کی جنگ سے امریکہ کو کیا حاصل ہوا؟”
نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ “تنازعات کے حل کے لیے مکالمہ ہی واحد راستہ ہے اور بھارت کو تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے چاہئیں۔” موجودہ قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ حکومت ہند کو مشورہ نہیں دے سکتے، لیکن ایک بات ضرور کہہ سکتے ہیں کہ اگر بھارت کو ترقی کرنی ہے تو ہر ملک سے دوستی کرنی ہوگی۔ “ایک وقت تھا جب ہمارے امریکہ، چین اور روس جیسے طاقتور ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔” انہوں نے روس کے ساتھ تعلقات اور بھارت و چین کے درمیان پنچ شیل معاہدے کا بھی ذکر کیا جو وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور چینی وزیر اعظم شاؤ اینلاے کے درمیان طے پایا تھا۔
فاروق عبداللہ نے مزید کہا کہ آج دنیا کثیر جہتی بن چکی ہے جہاں چین اور روس بھی طاقتور ممالک بن چکے ہیں۔ “بھارت کے ہمیشہ سب ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات رہے، خاص طور پر روس اور چین کے ساتھ۔ ہم نے کسی ملک سے دشمنی نہیں چنی بلکہ دوستی کو ترجیح دی۔ آج وزارت خارجہ ہی بتا سکتی ہے کہ خلیجی ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات کیسے ہیں۔”
سابق وزیر اعلیٰ نے فلسطین کے معاملے پر حکومت ہند کی ابتدائی خاموشی کا ذکر کرتے ہوئے افسوس ظاہر کیا اور کہا کہ یہ خاموشی غلط تھی۔ “بدقسمتی سے انہوں نے پہلا قدم اٹھایا، لیکن وہ غلط تھا۔ ہم ہمیشہ سے فلسطین کی حمایت کرتے آئے ہیں جو ایک جائز مقصد ہے، لیکن اچانک ہم نے رخ بدل لیا جو درست نہیں۔”
انہوں نے ان تمام ممالک کے عوام کو جنگ بندی پر مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ جمعہ کو پاکستان میں ان کے درمیان مکالمہ آگے بڑھے گا۔ “ایسے مسائل بات چیت سے ہی حل ہوتے ہیں۔ اس جنگ کے اثرات ہمارے ملک پر بھی مرتب ہوئے، ایل پی جی اور ایندھن کی سپلائی متاثر ہوئی اور قیمتیں بڑھ گئیں جس سے لوگ متاثر ہوئے۔ تنازعات کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتے۔
پاک-بھارت تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “پاکستان کو بھی دہشت گردی روک کر امن اور خوشحالی کا راستہ اپنانا چاہیے۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ایران کی “بہادری” کی ستائش کی کہ اس نے امریکہ اور اسرائیل کو مذاکرات پر مجبور کیا۔ “اس جنگ بندی میں پاکستان کے مرکزی کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جس نے دنیا کو تباہی کے دہانے سے واپس لایا۔ پاکستان کو اس کردار پر سراہا جانا چاہیے۔ جو رہنما کہتے ہیں کہ پاکستان کا کردار ہمارے ملک کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے، انہیں پاکستان فوبیا سے باہر آنا چاہیے۔ میں امید کرتی ہوں کہ پاکستان اور بھارت کسی وقت بات چیت شروع کریں گے اور اپنے مسائل حل کریں گے، جو ہمارے لیے نیک شگون ہوگا۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ یہ جنگ بندی مستقل ہو جائے اور ایران خوشحال ہو۔”
سینئر علیحدگی پسند رہنما ، حریت کانفرنس کے چیئرمین اور میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے بھی جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات چیت کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا: “ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی امن کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔ یہ (جنگ بندی) ظاہر کرتی ہے کہ تنازعات کے حل کے لیے محاذ آرائی کے بجائے تحمل اور مکالمہ زیادہ اہم ہے، اور امن جنگ پر غالب آتا ہے۔”
انہوں نے اس جنگ کے دوران ایرانی عوام کی ہمت کو بھی سراہا اور کہا: “شدید جارحیت کے باوجود ایرانی عوام اور قیادت نے جس حوصلے اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا وہ قابل تعریف ہے۔ ان کو اور اسلام آباد سمیت تمام کرداروں کو اس اہم جنگ بندی پر مبارکباد۔ امید ہے کہ اس سے دیرپا استحکام اور مزید مکالمہ فروغ پائے گا۔”
امریکہ-اسرائیل اور ایران نے بدھ کی صبح 39 دن کی جنگ کے بعد پاکستان کی ثالثی میں 14 دن کی جنگ بندی کا اعلان کیا، جس سے آبنائے ہرمز کو مشروط طور پر دوبارہ کھولنے کی اجازت ملے گی، جو عالمی سطح پر تیل اور ایل پی جی کی سپلائی کو متاثر کر رہی تھی۔
سرینگر سے نیشنل کانفرنس کے منتخب رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے قرآن پاک کی ایک آیت کا حوالہ دیتے ہوئے اشارہ دیا کہ اس جنگ میں ایران کامیاب رہا۔ انہوں نے لکھا: “اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا۔
“(ETV BHARAT)
