8 اپریل/عقاب ویب ڈیسک//جموں و کشمیر انتظامیہ نے دہشت گردی کے خلاف اپنی زیرو ٹالرنس پالیسی کو مزید سخت کرتے ہوئے دو سرکاری ملازمین کو ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی حکومت کی جانب سے یہ کارروائی آئینِ ہند کے آرٹیکل 311(2)(c) کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔ ان دونوں افراد پر الزام ہے کہ ان کے کالعدم اور پاکستان کی پشت پناہی سے چلنے والی تنظیموں، بالخصوص لشکرِ طیبہ اور حزب المجاہدین کے ساتھ گہرے روابط تھے۔
سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ برطرف کیے جانے والے ملازمین میں رامبن کے محکمہ تعلیم کا ایک درجہ چہارم کا ملازم فرحت علی کھنڈے شامل ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں اسے حزب المجاہدین کا ایک اہم سہولت کار قرار دیا گیا ہے۔ اس پر یہ سنگین الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے اپنی سرکاری نوکری کو ایک ڈھال کے طور پر استعمال کیا اور اس دوران وہ نہ صرف دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کر رہا تھا بلکہ حوالہ کے ذریعے غیر قانونی رقوم کی منتقلی اور عسکریت پسندوں کو مضبوط کرنے میں بھی براہ راست ملوث پایا گیا۔
دوسری جانب، محکمہ دیہی ترقی میں کام کرنے والے بانڈی پورہ کے رہائشی محمد شفیع ڈار کو لشکرِ طیبہ کے ماڈیول کا حصہ ہونے پر ملازمت سے نکالا گیا ہے۔ سیکیورٹی ایجنسیوں کے مطابق شفیع ڈار شدت پسندوں کو محفوظ پناہ گاہیں دینے، انہیں لاجسٹک مدد فراہم کرنے اور حساس معلومات پہنچانے کا کام کرتا تھا۔ واضح رہے کہ اپریل 2025 میں سیکیورٹی فورسز کی ایک مشترکہ کارروائی کے دوران اسلحہ برآمدگی کے ایک معاملے میں بھی اس کا کردار سامنے آیا تھا۔ حکام کے مطابق، جموں و کشمیر میں اب تک ایسے 90 سے زائد سرکاری اہلکاروں کو ملازمت سے فارغ کیا جا چکا ہے جن کے خلاف ملک دشمن عناصر کی معاونت کے ٹھوس ثبوت ملے ہیں۔
0
