3 برسوں میں لاکھوں چالان،350 کروڑ روپے جرمانہ وصول،ای چالان میں نمایاں اضافہ
سرینگر//19 اپریل// جموں و کشمیر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف جاری وسیع پیمانے پر کریک ڈاو ¿ن کے نتیجے میں گزشتہ سات برسوں کے دوران لاکھوں چالان جاری کیے گئے ہیں اور تقریباً 400 کروڑ روپے جرمانے کی مد میں وصول کیے گئے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ کارروائیاں 2018 سے مسلسل جاری ہیں اور مختلف اضلاع میں سخت نگرانی، ڈیجیٹل نظام اور مو ثر نفاذ کے ذریعے ٹریفک نظم و ضبط کو بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔یو این ایس کے مطابق اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سری نگر، جموں شہر، جموں کے دیہی علاقے اور قومی شاہراہ پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی گئی۔ سری نگر ٹریفک ونگ نے اس دوران 14 لاکھ سے زائد چالان جاری کیے، جن کے ذریعے 20 کروڑ روپے سے زیادہ جرمانہ وصول کیا گیا۔ سال بہ سال اعداد و شمار میں اتار چڑھاو دیکھنے کو ملا، خاص طور پر کووڈ وبا کے دوران چالانوں کی تعداد میں کمی آئی، تاہم بعد کے برسوں میں نفاذ میں نمایاں تیزی دیکھی گئی۔قومی شاہراہ پر بھی سخت نگرانی کے تحت 23 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ وصول کیا گیا، جہاں ٹریفک کی روانی اور حادثات کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے۔ اسی طرح جموں شہر میں ٹریفک پولیس نے سب سے زیادہ کارروائی کرتے ہوئے 17 لاکھ سے زائد چالان جاری کیے اور تقریباً 45 کروڑ روپے جرمانہ وصول کیا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ شہری علاقوں میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔جموں کے دیہی علاقوں میں بھی نفاذ کے عمل میں نمایاں اضافہ ہوا، جہاں ابتدائی برسوں کے مقابلے میں حالیہ عرصے میں چالانوں کی تعداد اور جرمانے کی رقم میں خاطر خواہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ حکام کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ دیہی علاقوں میں نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا اور گشت میں اضافہ ہے۔حالیہ برسوں میں ای-چالان نظام کے نفاذ نے ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کو مزید مو ¿ثر بنایا ہے۔ صرف 2023 میں 12 لاکھ سے زائد ای چالان جاری کیے گئے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 15 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ 2025 میں بھی 14 لاکھ سے زائد ای چالان جاری کیے گئے، جن کے نتیجے میں 145 کروڑ روپے سے زیادہ جرمانہ عائد کیا گیا۔ اسی سال تقریباً 16 ہزار گاڑیوں کو مختلف خلاف ورزیوں پر ضبط بھی کیا گیا۔مزید برآں، سڑک حادثات کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جون 2022 کے بعد سے ہزاروں حادثات پیش آئے، جن میں بڑی تعداد میں جانی و مالی نقصان ہوا۔ حادثات زیادہ تر بڑی شاہراہوں پر پیش آئے، جبکہ تیز رفتاری اور لاپرواہ ڈرائیونگ کو اہم وجوہات قرار دیا گیا ہے۔حکومت کے مطابق ٹریفک نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے جی آئی ایس پر مبنی نگرانی، ڈیٹا پر مبنی منصوبہ بندی اور حادثات کے شکار مقامات کی نشاندہی پر کام جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خطرناک ڈرائیونگ، قوانین کی خلاف ورزی اور بار بار جرم کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی، لائسنس کی منسوخی اور گاڑیوں کی ضبطی جیسے اقدامات بھی عمل میں لائے جا رہے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام اقدامات کا مقصد نہ صرف سڑکوں پر نظم و ضبط قائم کرنا ہے بلکہ عوام میں ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کے کلچر کو فروغ دینا بھی ہے، تاکہ حادثات میں کمی لائی جا سکے اور انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
