0

نیشنل ایجوکیشن پالیسی ترقی اوروکست بھارت کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی ضمانت:منوج سنہا

سرینگر//23اپریل// جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو نگروٹا کے پنجگرین علاقے میں واقع سوامی پرنوانند ودیامندر کی نئی اسکول عمارت کا افتتاح کیا اور کہا کہ مضبوط تعلیمی ڈھانچہ، ہنر مندی اور ہمہ جہت تربیت ہی ملک کو ترقی یافتہ بنانے کی بنیاد ہیں۔یو این ایس کے مطابق اپنے خطاب میں لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ نئی ہائر سیکنڈری عمارت اور مجوزہ اسکل انفراسٹرکچر سے پسماندہ اور غریب طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو معیاری تعلیم تک بہتر رسائی حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جب عمارت مکمل طور پر تیار ہو جائے گی تو یہ ادارہ 1500 سے زائد طلبہ کی تعلیمی ضروریات پوری کرے گا اور ہزاروں زندگیاں بدلنے کا ذریعہ بنے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں 100 طلبہ کے لیے رہائشی سہولت قائم کرنے کا منصوبہ بھی ہے، جس سے نہ صرف دور دراز علاقوں کے طلبہ کو فائدہ ہوگا بلکہ مقامی معیشت کو بھی فروغ ملے گا اور پسماندہ علاقوں میں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔یہ ادارہ بھارت سیواشرم سنگھ کے زیر انتظام 2014 سے ہر گھر شکشا مہم کے تحت چلایا جا رہا ہے، جہاں پری پرائمری سے آٹھویں جماعت تک تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔ ادارے میں زیر تعلیم نصف سے زائد طلبہ کا تعلق کمزور اور غریب گھرانوں سے ہے، اور اس نے اب تک بے شمار زندگیوں کو روشن کیا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے طلبہ اور اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ قوم کی تعمیر میں فعال کردار ادا کریں اور کلاس رومز کو بدلتے ہوئے عالمی تقاضوں کے مطابق ڈھالیں تاکہ بھارت ایک مضبوط علمی معیشت کے طور پر ابھر سکے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ میں ثقافتی شعور کو فروغ دینا ضروری ہے کیونکہ “تنوع میں اتحاد” عالمی معاشرے کی پہچان ہے۔انہوں نے ابلاغی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، جمہوری اقدار کو فروغ دینے اور باہمی تعاون کے جذبے کو بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہی عوامل جموں و کشمیر کو خوشحال اور مستحکم بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔اپنے خطاب میں منوج سنہا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہر طالب علم، خواہ وہ فنون لطیفہ، دستکاری، موسیقی یا کاروباری صلاحیتوں میں مہارت رکھتا ہو، یکساں عزت اور مواقع کا مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تعلیم جو صرف نمبروں اور محدود نصابی سرگرمیوں تک محدود ہو اور فن، کھیل اور ہنر کو نظر انداز کرے، مستقبل کے تقاضوں پر پورا نہیں اتر سکتی۔انہوں نے کہا کہ طلبہ کو تخلیقی صلاحیت، تنقیدی سوچ، اخلاقی فیصلہ سازی، باہمی تعاون اور زندگی بھر سیکھنے جیسی خصوصیات سے آراستہ کرنا ضروری ہے، کیونکہ یہ وہ انسانی صلاحیتیں ہیں جن کا کوئی متبادل نہیں اور جنہیں کوئی مشین تبدیل نہیں کر سکتی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور اب وہ دور نہیں رہا جب ایک ہی پیشہ پوری زندگی کے لیے کافی ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں مسلسل سیکھنا، مہارت حاصل کرنا اور خود کو اپ ڈیٹ رکھنا ناگزیر ہو چکا ہے، خاص طور پر اس وقت جب مصنوعی ذہانت اور خودکار نظام صنعتوں، دفاتر، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو تبدیل کر رہے ہیں۔انہوں نے نیشنل ایجوکیشن پالیسی کو قومی ضروریات کو پورا کرنے، سماجی صلاحیتوں کو بڑھانے اور اقتصادی ترقی کو تیز کرنے کا ایک مو ¿ثر ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسی دیہی و شہری اور سماجی و علاقائی خلیج کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔انہوں نے کہا کہ حقیقی تعلیم بیرونی دنیا کے لیے علم و مہارت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انسان کے اندرونی شعور، خود آگہی اور جذباتی مضبوطی کو بھی فروغ دیتی ہے۔ اس جامع نقطہ نظر کو ہر تعلیمی ادارے کی بنیادی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طلبہ کو سائنس اور اقدار کا امتزاج سیکھنا ہوگا تاکہ وہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پہلی بار دہائیوں کے بعد بچوں اور نوجوانوں کو پالیسی کے مرکز میں رکھا گیا ہے، جو “وکست بھارت” کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی ضمانت ہے۔تقریب میں جوگل کشور شرما، دیویانی رانا، نرمل سنگھ، رشمی گوول، ولاس زوڈے، چندر موہن گپتا سمیت متعدد معزز شخصیات موجود تھیں۔اس موقع پر سوامی بسواتمانند جی مہاراج، سوامی امبریشانند جی مہاراج اور بھارت سیواشرم سنگھ کے دیگر سینئر سنیاسی بھی شریک تھے۔ اس منصوبے کی معاونت انڈین آئل، ہندوستان پٹرولیم اور دیگر عطیہ دہندگان کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں