0

جموں و کشمیر میں خطرات و خدشات کی جامع رپورٹ جلد پیش

سرینگر//22اپریل// جموں و کشمیر میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانے اور ترقیاتی منصوبہ بندی کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے قائم اعلیٰ سطحی ماہرین کی کمیٹی جلد اپنی جامع خطرات، کمزوریوں اور رسک اسیسمنٹ رپورٹ پیش کرنے جا رہی ہے، جسے خطے کے مستقبل کے ترقیاتی ڈھانچے کے لیے کلیدی دستاویز قرار دیا جا رہا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق تشکیل دی گئی اس کمیٹی کو تین ماہ کے اندر رپورٹ مکمل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ مدت مکمل ہونے کے قریب ہے اور کمیٹی نے مختلف محکموں کے ساتھ تفصیلی مشاورت، ڈیٹا تجزیے اور باہمی رابطوں کے بعد اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے دی ہے۔یو این ایس کے مطابق کمیٹی کی سربراہی سیف احسان رضوی کر رہے ہیں، جو قومی آفات سماویٰ انتظام اتھارٹی (این ڈی ایم اے) میں ایڈوائزر (میٹیگیشن) کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کمیٹی میں جل شکتی، تعمیرات عامہ، ہامکانات و شہری ترقی، جنگلات، ماحولیات و ایکولوجی اور دیہی ترقی کے محکموں کے انتظامی سیکریٹری، جموں و کشمیر کے ڈویژنل کمشنر، سائنسدان اور تکنیکی ماہرین شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق کمیٹی کو خطے میں موجود کثیر الجہتی خطرات کی سائنسی نقشہ سازی کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ رپورٹ میں زلزلے، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب اور جنگلاتی آگ جیسے بڑے خطرات کا تفصیلی تجزیہ شامل ہوگا۔ حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی بگاڑ اور تیز رفتار شہری پھیلاو ¿ کے باعث ان خطرات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔کمیٹی ایک جامع جامع خطرات، کمزوریوں اور رسک اسیسمنٹ نقشے بھی تیار کر رہی ہے، جس میں جموں و کشمیر کے خطرہ زدہ علاقوں کی واضح نشاندہی کی جائے گی۔ یہ ایٹلس مستقبل میں انفراسٹرکچر کی تعمیر، شہری منصوبہ بندی اور ماحولیاتی ضوابط کے لیے ایک اہم حوالہ دستاویز کے طور پر استعمال ہوگا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں اس نوعیت کی سائنسی منصوبہ بندی کا فقدان رہا، جس کے باعث کئی ترقیاتی منصوبے بنیادی خطرات کا مکمل جائزہ لیے بغیر شروع کیے گئے۔ نئی رپورٹ نہ صرف خطرات کی نشاندہی کرے گی بلکہ ایک جامع پالیسی فریم ورک بھی فراہم کرے گی، جس میں قلیل، درمیانی اور طویل مدتی حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے۔کمیٹی کی سفارشات حکومت کو سرمایہ کاری کی ترجیحات طے کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو منظم کرنے اور ڈیزاسٹر رسپانس نظام کو مو ¿ثر بنانے میں مدد دیں گی۔ رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا جائے گا کہ خطرات کے جائزے کو حکمرانی اور منصوبہ بندی کا لازمی حصہ بنایا جائے تاکہ آفات سے قبل ہی احتیاطی اقدامات کیے جا سکیں۔سخت لینڈ یوز قوانین، بہتر بلڈنگ کوڈز اور ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقوں میں انفراسٹرکچر کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات کی سفارش بھی متوقع ہے۔ اس کے ساتھ خطرات سے متعلق ڈیٹا کی مسلسل اپڈیٹ اور ڈیزاسٹر تیاری کے منصوبوں کا باقاعدہ جائزہ لینے کے لیے مو ¿ثر نظام وضع کرنے کی تجویز دی جائے گی۔ذرائع کے مطابق موجودہ کوآرڈینیشن سسٹمز، ڈیٹا شیئرنگ میکانزم اور عمل درآمد کے ڈھانچے میں موجود خامیوں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے، اور ایسی تجاویز مرتب کی گئی ہیں جو ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو مزید فعال اور نتیجہ خیز بنا سکیں۔ماہرین کا ماننا ہے کہ جموں و کشمیر جیسے ماحولیاتی طور پر حساس خطے میں اس نوعیت کی رپورٹ نہایت اہمیت کی حامل ہے، جہاں بدلتے موسمی حالات اور غیر منظم ترقیاتی سرگرمیاں خطرات میں اضافہ کر رہی ہیں۔ گزشتہ برس فلیش فلڈز اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات نے اس نازک توازن کو مزید واضح کیا ہے۔ذرائع نے امید ظاہر کی ہے کہ اس رپورٹ کی سفارشات پر بروقت عمل درآمد کیا جائے گا تاکہ یہ محض ایک دستاویز تک محدود نہ رہے بلکہ خطے میں پائیدار ترقی اور مو ¿ثر ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے ایک عملی بنیاد فراہم کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں