23 اپریل/عقاب ویب ڈیسک//وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے دو کنٹینر جہازوں کی ضبطی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں سمجھتے، کیونکہ یہ جہاز نہ تو امریکی تھے اور نہ ہی اسرائیلی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے فوکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا،’نہیں، کیونکہ یہ امریکی جہاز نہیں تھے، نہ ہی اسرائیلی۔ یہ دو بین الاقوامی جہاز تھے۔‘
یہ بات انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہی کہ آیا ٹرمپ اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں، جس کے تحت ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیاں معطل تھیں۔
دوسری جانب صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایرانی امن تجویز کے لیے کوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امن تجویز پیش کرنے کے لیے کوئی حتمی وقت مقرر نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’صدر نے ایرانی تجویز موصول ہونے کے لیے کوئی واضح ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی۔ اس حوالے سے خبریں درست نہیں ہے۔ بالآخر ٹائم لائن کا تعین کمانڈر اِن چیف ہی کریں گے۔‘
خیال رہے بدھ کو ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا تھا کہ اس کی بحری افواج نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو جہازوں کو قبضے میں لے لیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق برطانیہ میں قائم میری ٹائم سیکیورٹی مانیٹرز نے تصدیق کی کہ تین تجارتی جہازوں نے آبنائے میں گن بوٹس کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی اطلاع دی ہے۔
یہ آبی گزرگاہ خلیج کی تیل اور گیس صنعت کے لیے ایک بین الاقوامی دروازہ ہے جس پر امریکہ اور ایران کنٹرول کے لیے برسرِ پیکار ہیں۔
پاسداران نے ایک بیان میں کہا کہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے آج صبح آبنائے ہرمز میں دو خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کی نشاندہی کر کے انہیں روک لیا۔
’ان دونوں جہازوں کو… پاسدارانِ انقلاب کی بحری افواج نے قبضے میں لے کر ایرانی ساحل کی جانب منتقل کر دیا۔
0
