23 اپریل/عقاب ویب ڈیسک//یورپ میں موسمِ گرما کی چھٹیوں کا آغاز قریب آتے ہی ہوائی اڈوں پر معمول کی چہل پہل کی توقع کی جا رہی تھی، مگر اس بار منظر کچھ مختلف ہے۔
ایئرلائنز اپنے شیڈول تبدیل کر رہی ہیں، مسافروں کو مہنگے ٹکٹوں کا سامنا ہے اور ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ایک ایسا بحران سر اٹھا رہا ہے جس کی جڑیں ہزاروں کلومیٹر دور خلیج میں واقع ہیں۔
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کس طرح چند ہفتوں میں یورپی ایئرلائنز کے لیے خطرہ بن سکتی ہے؟
اس بحران کا مرکز آبنائے ہرمز ہے، ایک ایسا تنگ سمندری راستہ جسے عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں یہاں کشیدگی اور جہاز رانی میں رکاوٹوں نے نہ صرف تیل بلکہ جیٹ فیول کی سپلائی کو بھی شدید متاثر کیا ہے، اور یہی اثر اب یورپ کے فضائی نظام میں محسوس کیا جا رہا ہے.
ماہرین کی وارننگ: محدود ذخائر
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے 16 اپریل کو خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو میں خبردار کیا کہ یورپ کے پاس جیٹ فیول کے ذخائر شاید صرف چھ ہفتے کے لیے باقی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر سپلائی میں رکاوٹ برقرار رہی تو پروازوں کی منسوخی ناگزیر ہو سکتی ہے۔ یہ بیان بعد ازاں مختلف بین الاقوامی میڈیا اداروں، جن میں روئٹرز اور عرب نیوز شامل ہیں، نے بھی نقل کیا اور اس خدشے کو مزید تقویت ملی کہ صورتحال محض عارضی دباؤ نہیں بلکہ ایک ممکنہ بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
جیٹ فیول کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ
اعداد و شمار بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یورپی نشریاتی ادارے یورو نیوز کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد جیٹ فیول کی قیمتوں میں تقریباً 95 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
اسی طرح انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے اپریل کے وسط کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر جیٹ فیول کی قیمت 1458 ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں یورپ میں 106 فیصد سے زیادہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس اضافے کا براہ راست اثر ہوائی ٹکٹوں پر پڑ رہا ہے، اور ایئرلائنز اس بوجھ کو مسافروں تک منتقل کر رہی ہیں۔
ممکنہ شدت: 80 سال کا بڑا بحران؟
توانائی کے ماہر کلاڈیو گیلمبرٹی نے عرب نیوز کو بتایا کہ یہ کم از کم آٹھ دہائیوں کا سب سے شدید توانائی بحران بن سکتا ہے اور اگر صورتحال برقرار رہی تو یورپ پانچ سے سات ہفتوں میں بڑے پیمانے پر قلت کا سامنا کر سکتا ہے۔
یہ دباؤ اب ایئرلائنز کے عملی فیصلوں میں بھی نظر آنے لگا ہے۔ جرمنی کی ایئرلائن لفتھانزا نے 21 اپریل کو اعلان کیا کہ وہ موسمِ گرما کے دوران بیس ہزار کم شارٹ ہال پروازیں چلائے گی تاکہ ایندھن کی بچت کی جا سکے۔
اسی طرح کے ایل ایم اور سکینڈنیوین ایئرلائن نے بھی یورپ کے اندر اپنی پروازوں میں کمی کی ہے۔ اٹلی میں بعض ہوائی اڈوں پر صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ چھوٹے جہازوں جیسے بوئنگ 737 اور ایئربس A320 کے لیے فی پرواز ایندھن کی حد مقرر کی جا رہی ہے، جس کا مطلب ہے کہ جہاز محدود فاصلے تک ہی پرواز کر سکتے ہیں۔
یورپی ردعمل
یورپی کمیشن نے 17 اپریل کو ایک بیان میں کہا کہ فی الحال کسی بڑے پیمانے کے بحران کے شواہد نہیں ملے، تاہم اس نے یہ تسلیم کیا کہ مارکیٹ میں دباؤ بڑھ رہا ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
اس کے ساتھ ہی رکن ممالک کے درمیان ایندھن کی تقسیم، ذخائر کی نگرانی اور ہنگامی اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
صورتحال کورونا بحران سے زیادہ سنگین کیوں؟
اگر اس صورتحال کا موازنہ چند سال قبل کورونا کے دوران ہونے والے بحران سے کیا جائے تو ایک اہم فرق سامنے آتا ہے۔ اُس وقت مسئلہ مسافروں کی کمی تھا، جبکہ آج مسئلہ ایندھن کی دستیابی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ جہاز بھرے ہوئے ہیں، مگر ان کے اڑنے کی صلاحیت خود ایندھن پر منحصر ہو گئی ہے، جو ایک مختلف نوعیت کا اور ممکنہ طور پر زیادہ پیچیدہ بحران ہے۔
اس تمام صورتحال کے اثرات پاکستان جیسے ممالک تک بھی پہنچ رہے ہیں، جہاں سے بڑی تعداد میں مسافر یورپ کا رخ کرتے ہیں۔
گزشتہ تین ماہ کے دوران یورپ جانے والے ٹکٹوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جنوری میں جو ٹکٹ 600 سے 800 یورو میں دستیاب تھے، وہ اب 700 سے 900 یورو یا اس سے بھی زیادہ میں فروخت ہو رہے ہیں۔
مزید پیچیدگی کنیکٹنگ فلائٹس میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ پاکستانی مسافر عموماً خلیجی ممالک کے ہوائی اڈوں کے ذریعے یورپ جاتے ہیں، اور چونکہ یہ خطہ اس بحران کے مرکز کے قریب ہے، اس لیے یہاں سے چلنے والی پروازیں زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔ تاخیر، طویل قیام، اور آخری وقت میں روٹس کی تبدیلی جیسے مسائل اب عام ہوتے جا رہے ہیں۔ بعض صورتوں میں مسافروں کو ترکی یا وسطی ایشیا کے راستے سفر کرنا پڑ رہا ہے، جو نہ صرف وقت طلب ہے بلکہ زیادہ مہنگا بھی ثابت ہو رہا ہے۔
یہ بحران ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ عالمی معیشت اور ہوا بازی کا نظام کس حد تک چند اہم جغرافیائی راستوں پر منحصر ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ان راستوں میں خلل پڑے تو اس کے اثرات صرف تیل کی قیمت تک محدود نہیں رہتے بلکہ دنیا بھر کے مسافروں، معیشتوں اور روزمرہ زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔
آنے والے ہفتے اس لحاظ سے اہم ہوں گے کہ آیا یہ بحران وقتی دباؤ ثابت ہوتا ہے یا ایک بڑے عالمی مسئلے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ فی الحال یورپ کے آسمانوں پر اڑتے جہاز اس غیر یقینی صورتحال کی علامت بن چکے ہیں، اور ان میں سفر کرنے والے مسافر اس بدلتی ہوئی دنیا کے براہِ راست گواہ ہیں۔
