اصلیت ماند پڑ رہی ہے، مشینی مصنوعات نے بازار پر قبضہ جما لیا
ماہرین کا انتباہ: ”اگر فوری اقدامات نہ ہوئے تو صدیوں پرانی دستکاری ختم ہو سکتی ہے“
سرینگر//18اپریل// کشمیر کی روایتی دستکاری صنعت، جو کبھی خطے کی معیشت اور شناخت کا مضبوط ستون سمجھی جاتی تھی، آج ایک سنگین بحران سے دوچار ہے۔ ماہرین اور متعلقہ حلقوں کے مطابق بڑھتی ہوئی نقلی (مشینی) مصنوعات، کمزور پالیسی نفاذ اور بدلتی ہوئی مارکیٹ صورتحال نے اس شعبے کو زوال کی طرف دھکیل دیا ہے۔یہ مسئلہ حال ہی میں اس وقت دوبارہ توجہ کا مرکز بنا جب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کشمیر ہاٹ میں”اپنے دستکار کو جانو“نمائش کا افتتاح کیا، جہاں دستکاروں کی بقا اور بحالی کی کہانیاں پیش کی گئیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جو آج ’ورثہ‘کے طور پر دکھایا جا رہا ہے، وہ کبھی ایک خود کفیل اور مضبوط معاشی نظام تھا۔یو این ایس کے مطابق ماضی میں کشمیر کی دستکاری صنعت زراعت کے بعد روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ تھی۔ خاص طور پر سرینگر کے قدیم علاقوں میں ہزاروں خاندان قالین بافی، شال سازی، کشیدہ کاری، پیپر ماشی، لکڑی کی نقش و نگاری، کھاتم بند، چین سٹچ اور دیگر ہنر سے وابستہ تھے۔ یہ صرف پیشے نہیں بلکہ ایک طرز زندگی تھے، جو نسل در نسل منتقل ہوتے رہے۔یہ پورا نظام مہارت، صبر اور اصلیت پر قائم تھا، جس نے کشمیری مصنوعات کو عالمی سطح پر منفرد شناخت دی۔ گھروں کو تربیتی مراکز کی حیثیت حاصل تھی، جہاں ہنر سکھایا ہی نہیں جاتا بلکہ ثقافت کے طور پر جذب کیا جاتا تھا۔لیکن وقت کے ساتھ یہ تسلسل ٹوٹتا گیا۔ ماہرین کے مطابق اس زوال کی بڑی وجہ پالیسی سطح پر عدم توجہ اور زمینی حقیقتوں سے دوری رہی، جس کے نتیجے میں دستکار ایک غیر منظم اور غیر منصفانہ مارکیٹ میں اکیلا رہ گیا، جہاں نہ مناسب تحفظ ہے اور نہ ہی کوئی مو ¿ثر فریم ورک۔آج صورتحال یہ ہے کہ روایتی کشمیری مصنوعات تیزی سے مشینی نقل کا شکار ہو رہی ہیں۔ پشمینہ اور رفال شال، جو کبھی ہاتھ سے بنتی تھیں، اب بڑی تعداد میں مشینوں سے تیار کی جا رہی ہیں۔ کانی شال، لکڑی کی نقش و نگاری، سوزنی اور آری کڑھائی—سب کچھ مشینی انداز میں تیار ہو رہا ہے۔ حتیٰ کہ پیپر ماشی جیسی نازک دستکاری بھی اب مصنوعی مواد اور پرنٹڈ ڈیزائنز کے ذریعے نقل کی جا رہی ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ مسئلہ مشینی مصنوعات کا وجود نہیں بلکہ ان کی غلط پیشکش ہے۔ جب مشین سے بنی اشیاءکو ہاتھ سے بنی ہوئی مصنوعات کے طور پر فروخت کیا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف اصل دستکار متاثر ہوتا ہے بلکہ صارف بھی دھوکے کا شکار ہوتا ہے۔ اس طرح “اصلیت” جو کبھی کشمیری دستکاری کی پہچان تھی، اب سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔اگرچہ مختلف مصنوعات کو جغرافیائی شناخت دی گئی ہے، لیکن اس کے باوجود مو ¿ثر نفاذ کا فقدان ہے۔ نہ تو مارکیٹ میں واضح فرق موجود ہے اور نہ ہی خریدار کے لیے کوئی قابل اعتماد نظام، جس سے وہ اصلی اور نقلی میں فرق کر سکے۔مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ بعض سرکاری ادارے بھی، جو اس شعبے کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں، خود مشینی مصنوعات کو دستکاری کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ یہ مصنوعات سیاحتی مراکز، استقبالیہ عمارتوں اور مذہبی مقامات تک میں رکھی جا رہی ہیں، جس سے نقل کو فروغ مل رہا ہے اور اصل دستکار مزید پیچھے دھکیل دیا جا رہا ہے۔ایک اور اہم مسئلہ ہنر کی نسل در نسل منتقلی کا ٹوٹنا ہے۔ نوجوان نسل، کم آمدنی اور غیر یقینی مستقبل کو دیکھتے ہوئے اس شعبے سے دور ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق جو ہنر صدیوں میں پروان چڑھا، وہ ایک ہی نسل میں ختم ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔پالیسی سطح پر بھی واضح سمت کا فقدان محسوس کیا جا رہا ہے۔ نہ تو کوئی مضبوط نظام موجود ہے جو اصلی دستکاری کو محفوظ اور فروغ دے، اور نہ ہی مشینی مصنوعات کو واضح طور پر الگ درجہ دے۔ اس ابہام نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں اصلیت کی کوئی خاص قدر نہیں رہی اور نقل بغیر کسی رکاوٹ کے فروغ پا رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ’ایر آف ڈیونگ بزنس‘ کا مطلب صرف کاغذی آسانیاں نہیں بلکہ ایسا نظام ہونا چاہیے جہاں دستکار عزت کے ساتھ کام کر سکے، اپنی مصنوعات کی مناسب قیمت حاصل کرے اور اسے مارکیٹ میں پہچان ملے۔وہ تجویز دیتے ہیں کہ ایک جدید اور قابل اعتماد تصدیقی نظام قائم کیا جائے، جس کے تحت ہر دستکاری کی چیز کو ایک منفرد شناخت دی جائے، جو اسے اس کے بنانے والے، طریقہ کار اور اصل سے جوڑے۔ اس سے نہ صرف خریدار کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ اصلی مصنوعات کو عالمی منڈی میں ایک اعلیٰ معیار کے طور پر پیش کیا جا سکے گا۔یو این ایس کے مطابق ساتھ ہی مشینی مصنوعات کو بھی واضح طور پر الگ درجہ دیا جائے اور انہیں اسی حیثیت سے فروغ دیا جائے، تاکہ وہ اپنی جگہ مارکیٹ میں رہیں مگر اصل دستکاری کے دائرے میں مداخلت نہ کریں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو کشمیر کی دستکاری صنعت محض نمائشوں تک محدود ہو کر رہ جائے گی—ایک ایسا ورثہ جسے دکھایا تو جائے گا مگر عملی طور پر وہ ختم ہو چکا ہوگا۔ان کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ دستکار زندہ رہ سکتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا نظام اسے زندہ رہنے دینا چاہتا ہے یا نہیں۔ جب تک اس سوال کا واضح جواب نہیں ملتا، تب تک اس شعبے کی بحالی کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔
