ریموٹ کنٹرول کھلونا گاڑی کے ذریعے حملے کی منصوبہ بندی، حساس مقامات کی ریکی کا انکشاف
خفیہ آن لائن گروپوںکے ذریعے نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کرنے کی کوشش، بڑے اہداف نشانے پر
سرینگر//18اپریل// قومی دارالحکومت نئی دہلی میں ایک بڑی دہشت گردانہ سازش کو ناکام بناتے ہوئے دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے چار مبینہ شدت پسند افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جو مختلف ریاستوں مہاراشٹر، اڈیشہ اور بہار سے تعلق رکھتے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ افراد نہ صرف دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے بلکہ حساس اور علامتی اہمیت کے حامل مقامات کی ریکی بھی کر چکے تھے۔پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران ایک خطرناک آئی ای ڈی اور اس سے متعلق دیگر ساز و سامان بھی برآمد کیا گیا۔ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ دو ملزمان ایک ریموٹ کنٹرول کھلونا گاڑی میں آئی ای ڈی نصب کر کے اسے بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں استعمال کرنے کی تیاری میں مصروف تھے، جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ جانی و مالی نقصان پہنچانا اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانا تھا۔یو این ایس کے مطابق اسپیشل سیل نے خفیہ معلومات اور تکنیکی نگرانی کے ذریعے ایک مربوط اور منظم آپریشن انجام دیتے ہوئے دو ملزمان کو مہاراشٹر جبکہ ایک ایک کو اڈیشہ اور بہار سے گرفتار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی انٹیلی جنس بنیادوں پر کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک بڑے خطرے کو بروقت ٹال دیا گیا۔تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ یہ گروہ شدت پسند نظریات سے متاثر تھا اور خلافت کے قیام کے تصور کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ’غزوہ ہند‘جیسے بیانیے کو عام کر رہا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزمان خفیہ اور انکرپٹڈ سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر سرگرم تھے، جہاں جہاد، اسلحہ سازی اور شدت پسندی سے متعلق مواد شیئر کیا جاتا تھا۔ انہی پلیٹ فارموں کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے، ذہن سازی کرنے اور انہیں اپنے نیٹ ورک میں شامل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ ملزمان میں سے ایک نے لال قلعہ کی ایک ترمیم شدہ تصویر شیئر کی تھی، جس میں سیاہ جھنڈا دکھایا گیا تھا، تاکہ علامتی اہداف کی نشاندہی اور پروپیگنڈہ کیا جا سکے۔ مزید تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ دسمبر 2025 میں ایک ملزم نے دہلی کا دورہ کیا تھا اور اس دوران اس نے لال قلعہ اور انڈیا گیٹ سمیت کئی اہم مقامات کی خفیہ نگرانی (ریکی) کی۔تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ یہ گروہ ایودھیا میں واقع رام مندر، پارلیمنٹ ہاو ¿س اور بعض فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے امکانات پر غور کر رہا تھا۔ سکیورٹی ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ ان کا مقصد ایسے حملوں کے ذریعے نہ صرف جانی نقصان پہنچانا تھا بلکہ ملک بھر میں نفسیاتی خوف اور عدم استحکام پیدا کرنا بھی تھا۔گرفتار شدگان کی شناخت معصیب احمد، محمد حماد، محمد سہیل اور شیخ عمران کے طور پر ہوئی ہے، جو زیادہ تر کمزور معاشی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔ معصیب احمد، جو پہلے سعودی عرب اور قطر جیسے خلیجی ممالک میں بطور آٹو الیکٹریشن کام کر چکا ہے، اپنی تکنیکی مہارت کو استعمال کرتے ہوئے ایک ریموٹ کنٹرول گاڑی میں آئی ای ڈی نصب کرنے کا کام کر رہا تھا۔پولیس کے مطابق محمد حماد نے آئی ای ڈی بنانے کے لیے درکار سامان جیسے بال بیرنگ، کیل، کھلونا گاڑی اور دیگر اشیا فراہم کیں، جبکہ معصیب احمد کو اس ڈیوائس کو تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ دوسری جانب شیخ عمران نے سوشل میڈیا کے ذریعے دیگر ملزمان سے رابطہ قائم کیا اور ایک خفیہ گروپ تشکیل دیا، جہاں جہاد، خلافت اور ممکنہ حملوں پر تبادلہ خیال کیا جاتا تھا۔ اس نے مبینہ طور پر اسلحہ اور جسمانی تربیت کے انتظام کا وعدہ بھی کیا تھا۔محمد سہیل، جو پیشے کے لحاظ سے پلمبر ہے، پر الزام ہے کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف راغب کیا اور مالی معاونت جمع کرنے کے لیے اپنے بینک اکاو ¿نٹ اور کیو آر کوڈ کا استعمال کیا۔پولیس نے بتایا کہ ملزمان کے قبضے سے متعدد موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور دیگر ڈیجیٹل آلات برآمد کیے گئے ہیں، جن کا فرانزک تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ اس نیٹ ورک کے دیگر ممکنہ روابط، ہینڈلرز اور معاونین کا پتہ چلایا جا سکے۔حکام نے اس معاملے میں مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے، جبکہ سکیورٹی ایجنسیاں اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا اس گروہ کے روابط کسی بڑے بین الاقوامی نیٹ ورک سے تو نہیں جڑے ہوئے۔
