نئی دہلی، 16 اپریل : وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کے روز کہا کہ آج سے شروع ہونے والا پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس ملک میں خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت ایک “تاریخی قدم” ہے، جس سے عوامی زندگی میں خواتین کے وقار اور نمائندگی کو آگے بڑھانے کے حکومت کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں وزیراعظم مودی نے کہا، “آج سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے ذریعے ہمارا ملک خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت ایک تاریخی قدم اٹھانے جا رہا ہے۔ ہماری ماؤں اور بہنوں کا احترام ملک کا احترام ہے، اور اسی جذبے کے ساتھ ہم اس سمت مضبوطی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔”
ایک سنسکرت شلوک کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے مزید کہا، “تم ابھرو اور اپنی کرنوں سے دنیا کو منور کرو۔ کنوا خاندان کے رشیوں نے خوشحالی اور فراوانی کے لیے اپنی حمدوں کے ذریعے تمہیں پکارا ہے،” جس کے ذریعے انہوں نے قومی ترقی میں خواتین کے مرکزی کردار پر ثقافتی اور فلسفیانہ زور دیا۔
یہ تبصرے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پارلیمنٹ کا ایک نایاب خصوصی اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں قانون ساز اداروں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کی تجاویز سمیت اہم قانون سازی کے اقدامات متوقع ہیں۔ حکومت نے مسلسل ایسے اقدامات کو جامع ترقی اور صنفی مساوات کو یقینی بنانے کی ایک وسیع مہم کے طور پر پیش کیا ہے۔
خواتین کو بااختیار بنانے کا معاملہ ہندوستان کے سیاسی منظرنامہ میں ایک مرکزی نقطہ رہا ہے، جہاں یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں فیصلہ سازی کے اداروں میں خواتین کی شرکت بڑھانے کے طریقہ کار پر بحث کرتی رہی ہیں۔ اگرچہ خواتین کے ریزرویشنچ کے حوالے سے قانون سازی کی کوششیں برسوں تک نشیب و فراز کا شکار رہی ہیں، لیکن موجودہ سیشن پر سب کی نظریں جمی ہوئی ہیں کہ آیا دیرینہ66 وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھایا جاتا ہے یا نہیں۔
وزیر اعظم مودی کا یہ پیغام اس سیشن کے رخ کا تعین کرتا ہے، جہاں خواتین کو بااختیار بنانے کو نہ صرف ایک پالیسی ترجیح بلکہ قومی فخر اور ثقافتی اقدار کے معاملے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔
