0

2029 میں خواتین ریزرویشن سے جمہوریت مضبوط ، جمہوری نظام کی مضبوطی کیلئے خواتین کی فیصلہ سازیمیں شمولیت ضروری// وزیر اعظم نریندر مودی

سرینگر//14اپریل// وزیرِ اعظم نریندر مودی نے منگل کے روز اتراکھنڈ کے دارالحکومت دہرادون میں عظیم سماجی رہنما ڈاکٹر بھیم راو ¿ امبیڈکر کی 135ویں یومِ پیدائش کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت ان کے نظریات کے مطابق سماجی انصاف کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔اس موقع پر وزیرِ اعظم نے دہلی،دہرادون اکنامک کاریڈور کا افتتاح بھی کیا، جو 213 کلومیٹر طویل چھ لین پر مشتمل ایک اہم شاہراہ منصوبہ ہے، جس پر 12 ہزار کروڑ روپے سے زائد لاگت آئی ہے۔ یہ کاریڈور دہلی، اتر پردیش اور اتراکھنڈ سے گزرتا ہے اور اس کے مکمل ہونے سے دہلی سے دہرادون کا سفر جو پہلے چھ گھنٹے سے زائد تھا، اب تقریباً ڈھائی گھنٹے میں طے ہو سکے گا۔یو این ایس کے مطابق اپنے خطاب میں نریندر مودی نے کہا”آج بابا صاحب امبیڈکر کی یومِ پیدائش بھی ہے، میں انہیں دل کی گہرائیوں سے خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔ گزشتہ دس برسوں میں ہماری حکومت نے آئین کے وقار کو بحال کرنے کے لیے اہم فیصلے کیے ہیں۔“انہوں نے آررٹیکل 370 کی منسوخی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کے بعد اب ہندوستان کا آئین مکمل طور پر پورے ملک میں نافذ ہو چکا ہے، جبکہ ماونواز متاثرہ علاقوں میں بھی آئینی نظام مستحکم ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئین ہند کے مطابق یونیفارم سول کوڈ کا نفاذ ضروری ہے اور اتراکھنڈ نے اس سمت میں پہل کر کے پورے ملک کے لیے ایک مثال قائم کی ہے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ بابا صاحب امبیڈکر نے اپنی پوری زندگی پسماندہ اور محروم طبقات کو سماجی انصاف دلانے کے لیے وقف کی، اور موجودہ حکومت بھی اسی مشن کو آگے بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امبیڈکر جدید انفراسٹرکچر اور صنعتی ترقی کے حامی تھے، اور یہی وڑن آج کے ترقیاتی منصوبوں میں جھلکتا ہے۔تقریب کے دوران وزیرِ اعظم نے تاخیر پر معذرت بھی کی اور کہا”میں آپ سب سے معافی چاہتا ہوں کہ میں ایک گھنٹہ تاخیر سے پہنچا۔ 12 کلومیٹر طویل روڈ شو میں عوام کا جوش و خروش اس قدر تھا کہ گاڑی کو آگے بڑھانا مشکل ہو گیا“انہوں نے عوامی حمایت کو اپنی قوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اتراکھنڈ کے عوام کی محبت اور دعاو ¿ں سے انہیں نئی توانائی ملی ہے۔وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ دہلی دہرادون اکنامک کاریڈور ریاست کی ترقی میں سنگِ میل ثابت ہوگا اور رابطہ کاری کو مضبوط بنا کر معیشت کو نئی رفتار دے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آنے والے دنوں میں بدری ناتھ اور کیدار ناتھ یاترا کا آغاز ہوگا، جس سے سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔آخر میں انہوں نے بیساکھی، پوتھندو اور بوہاگ بیہو جیسے تہواروں پر عوام کو مبارکباد پیش کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ اتراکھنڈ ترقی کی راہ پر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور آنے والا وقت اس ریاست کے لیے نہایت اہم ہوگا۔وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ اگر 2029 میں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات خواتین کے ریزرویشن کے ساتھ منعقد ہوئے تو بھارتی جمہوریت مزید مضبوط، جامع اور متحرک ہو جائے گی۔ملک کی خواتین کے نام اپنے خط میں وزیر اعظم نے کہا کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خواتین کی نمایاں کامیابیوں کے پیش نظر قانون ساز اداروں میں ان کی شرکت میں اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ خواتین کو فیصلہ سازی کے عمل میں مناسب نمائندگی دی جائے۔یو این ایس کے مطابق وزیر اعظم نے زور دیا کہ ‘ناری شکتی وندن ادھنییم’ میں مجوزہ ترامیم کو 16 اپریل سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے تین روزہ خصوصی اجلاس میں ہر حال میں منظور کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس معاملے میں مزید تاخیر خواتین کے ساتھ بڑی ناانصافی ہوگی۔انہوں نے اپنے خط میں لکھا”اگر 2029 کے لوک سبھا اور ریاستی اسمبلی انتخابات خواتین کے ریزرویشن کے ساتھ منعقد ہوں تو ہماری جمہوریت مزید مضبوط اور متحرک ہوگی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کی بیٹیوں کو ان کے جائز حق کے لیے غیر معینہ مدت تک انتظار نہیں کروایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جب مقننہ میں خواتین کی آواز مضبوط ہوگی تو جمہوریت کی بنیادیں بھی مزید مستحکم ہوں گی۔انہوں نے ملک بھر کی خواتین سے اپیل کی کہ وہ اپنے مقامی اراکین پارلیمنٹ کو خطوط لکھ کر اس تاریخی قانون سازی کی حمایت کریں اور پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں اس کی منظوری کو یقینی بنانے میں کردار ادا کریں۔واضح رہے کہ ستمبر 2023 میں پارلیمنٹ نے ‘ناری شکتی وندن ادھنییم’ یعنی خواتین ریزرویشن بل منظور کیا تھا، جس کے تحت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں ایک تہائی نشستیں خواتین کے لیے مخصوص کی گئی ہیں۔ یہ قانون خواتین کی سیاسی نمائندگی بڑھانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔مجوزہ ترامیم کے تحت لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 816 ہو جائے گی، جن میں سے 273 نشستیں خواتین کے لیے مختص ہوں گی، جس سے ایوان میں خواتین کی نمائندگی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔موجودہ قانون کے مطابق خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کا نفاذ 2027 کی مردم شماری کے بعد حلقہ بندی کے عمل سے مشروط تھا، جس کے باعث اس کا اطلاق 2034 سے پہلے ممکن نہیں تھا۔ تاہم، حکومت 2029 کے انتخابات سے قبل اس قانون میں ترمیم کر کے اسے جلد نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ خواتین کو بروقت ان کا حق مل سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں