0

اسمبلی انتخابات کے دوران 650 کروڑ روپے کی نقدی، شراب اور دیگر سامان ضبط

نئی دہلی، 5 اپریل (یواین آئی) الیکشن کمیشن نے اتوار کو کہا کہ مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جاری اسمبلی انتخابات اور ضمنی انتخابات کو پیسے اور لالچ سے پاک رکھنے کی کارروائی کے تحت اب تک 650 کروڑ روپے کی نقدی، شراب اور دیگر اشیاء ضبط کی گئی ہیں۔
اتوار کو جاری بیان کے مطابق قانون نافذ کرنے والی مختلف ایجنسیوں کے ذریعے کمیشن کی کارروائی میں اب تک 53.2 کروڑ روپے کی نقدی، تقریباً 79.3 کروڑ روپے مالیت کی 29.64 لاکھ لیٹر شراب، 230 کروڑ روپے کے منشیات، 58 کروڑ روپے کی قیمتی اشیاء اور 231 کروڑ روپے کے مفت تحائف ضبط کیے گئے ہیں۔
کمیشن نے بتایا کہ مغربی بنگال میں 11 کروڑ روپے، تمل ناڈو میں 30 کروڑ روپے اور کیرالہ میں 8 کروڑ روپے کی نقدی ضبط کی گئی ہے۔ آسام میں 4 کروڑ روپے اور پڈوچیری میں 20 لاکھ روپے نقد پکڑے گئے ہیں۔
بیان کے مطابق مغربی بنگال میں سب سے زیادہ 55 کروڑ روپے مالیت کی 21.29 لاکھ لیٹر شراب اور 65 کروڑ روپے کے دیگر منشیات ضبط کیے گئے۔ تمل ناڈو میں 74 ہزار لیٹر شراب اور 67 کروڑ روپے کے منشیات پکڑے گئے۔ آسام میں 20 کروڑ روپے مالیت کی 6.84 لاکھ لیٹر شراب اور 56 کروڑ روپے کے منشیات ضبط کیے گئے۔ کیرالہ میں تقریباً 65 ہزار لیٹر شراب اور 41 کروڑ روپے کے منشیات پکڑے گئے۔
مفت تحائف ضبط کرنے کے معاملے میں مغربی بنگال 150 کروڑ روپے کی ضبطی کے ساتھ سب سے آگے ہے، اس کے بعد تمل ناڈو 63 کروڑ روپے اور آسام 13 کروڑ روپے کے ساتھ ہیں۔ کیرالہ میں ضبط شدہ سامان کی مالیت تقریباً 5 کروڑ روپے ہے۔
کمیشن نے 15 مارچ کو آسام، کیرالہ، پڈوچیری، تمل ناڈو اور مغربی بنگال کی اسمبلیوں کے عام انتخابات اور 6 ریاستوں کی 8 نشستوں کے لیے پروگرام کا اعلان کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی وہاں ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔ ان ریاستوں اور ان سے متصل 12 ریاستوں کی پولیس و انتظامیہ کو بھی انتخابات کو متاثر کرنے والی سرگرمیوں کے خلاف چوکس رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
انتخابات کو تشدد، خوف اور لالچ سے پاک رکھنے کے لیے 5,173 سے زیادہ فلائنگ اسکواڈ تعینات کیے گئے ہیں۔ کمیشن نے غلط طریقے سے انتخابات کو متاثر کرنے کی کسی بھی کارروائی کے خلاف شکایت درج کرنے کے لیے ایک ایپ کی سہولت فراہم کی ہے، جس پر شہریوں کی شکایت پر 100 منٹ کے اندر کارروائی یقینی بنائی گئی ہے۔
انتخابی علاقوں میں تلاشی اور چھاپے کے لیے 5,200 سے زیادہ نگرانی اور کارروائی ٹیمیں بھی تعینات کی گئی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں