اپریل 11///عقاب ویب ڈیسک///یہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد پہلا موقع ہے کہ ایرانی اور امریکی وفود اعلیٰ سطح پر آمنے سامنے بات چیت کر رہے ہیں۔ پاکستان کو اس تاریخی لمحے کی میزبانی کا موقع ملا ہے۔
سنیچر کی صبح پہلے محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد کی اسلام آباد آمد اور پھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد کے پہنچنے تک یہ واضح نہیں تھا کہ آیا فریقین دیرپا امن کے لیے آمنے سامنے بیٹھیں گے۔
اسلام آباد میں پاکستانی ثالثوں کی موجودگی میں امریکہ اور ایران کے درمیان 16 گھنٹے طویل مذاکرات رات گئے تک جاری رہے
اِن تاریخی براہ راست مذاکرات کے دوران تکنیکی ماہرین کی سطح پر بھی بات چیت ہوئی اور تحریری مسودوں کا تبادلہ کیا گیا
امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو نہ ہو ’مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا‘
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا آغاز کر دیا ہے۔ تاہم ایرانی فوج کے بقول آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول برقرار ہے
مگر اب پاکستانی اور وائٹ ہاؤس کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سنیچر کو پاکستانی ثالثوں کی موجودگی میں دونوں فریقین کے درمیان براہ راست مذاکرات ہوئے ہیں۔
سنیچر کو دونوں وفود کی پہلے پاکستانی حکام سے علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، جس کے بعد پاکستان کی ثالثی میں امریکی اور ایرانی نمائندے اسلام آباد کے سیرینا ہوٹل میں آمنے سامنے بیٹھے اور متنازع امور پر بات چیت شروع کی۔
