12 اپریل//عقاب ویب ڈیسک//اسلام آباد میں امریکہ و ایران کے درمیان ہونے مذاکرات بغیر کسی نتیجے تک پہنچے ختم ہو گئے ہیں اور امریکی وفد بھی واپس روانہ ہو گیا، جس سے کچھ نکات تو کھل کر سامنے آئے ہیں جبکہ کچھ چیزیں سامنے نہیں آئیں۔
امریکہ واپسی سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پریس کانفرنس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذاکرات 21 گھنٹے تک جاری رہے اور اس دوران متعدد دور ہوئے جبکہ کچھ مزید اہم نکات بھی شامل ہیں۔
جنگ بندی کا مستقبل؟
پاکستان کی ثالثی کی کوششوں سے ہونے والی دو ہفتے کی جنگ بندی کو پہلے ہی ’نازک‘ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ نائب امریکی صدر کی بریفنگ کے بعد اس کے مستقبل کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکتا ہے کہ اس میں توسیع ہو گی یا نہیں۔
اس عارضی جنگ بندی کا اعلان بدھ کو کیا گیا تھا اور اس حساب سے اس کے چار روز گزر بھی گئے ہیں۔
آبنائے ہرمز کا معاملہ
آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کا مستقبل بھی مذاکرات شروع اور ختم ہو جانے کے بعد غیر واضح ہے جبکہ صدر ٹرمپ اس پر بہت سخت موقف رکھتے ہیں اور ایران کو دی گئی ڈیڈلائن بھی اس کو کھولنے سے مشروط تھی۔
تاہم مذاکرات ہو جانے کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس حوالے سے صرف اتنا کہا کہ ایران کے جواب کا انتظار ہے تاہم یہ نہیں بتایا کہ اس کا جواب کب تک متوقع ہے اور اگر اس نے کب تک جواب نہ دیا تو کیا ہو گا۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا پر کہا جا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے وہ جوں کا توں مؤقف رکھتا ہے۔
ایران کا جوہری پروگرام
امریکی نائب صدر کی بریفنگ سے یہ پتہ بھی چلتا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرم سے متعلق مؤقف تبدیل نہیں ہوا ہے اور ان کے مطابق اس پر ایران کی جانب سے کمٹمنٹ نہیں مل رہی۔
ان کے مطابق ’ان کے مطابق ایرانی وفد کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے کوئی واضح عزم سامنے نہیں آیا۔‘
اس لیے ایران کے جوہری پروگرام کا مستقبل بھی واضح نہیں ہے۔
ٹائم فریم اور آگے کیا ہو گا؟
امریکی وفد مذاکرات کے بے نتیجہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے واپس چلا گیا ہے تاہم یہ معلوم نہیں آگے کیا ہو گا کیونکہ کئی معاملات پر واضح ٹائم فریم موجود نہیں ہے جن میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ آیا مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا اور اگر ایسا ہوتا ہے تو کیسے اور کہاں پر ہو گا اور اگر نہیں ہوتا تو کیا صورت بن سکتی ہے۔
خیال رہے 28 فروری کو ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملے کے ساتھ چھڑنے اور خطے بھر میں پھیل جانے والی جنگ کو رکوانے کے لیے پاکستان شروع سے متحرک رہا اور کئی ہفتے کی کوششوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کرانے میں کامیاب رہا جبکہ مذاکرات کے لیے بھی سہولت فراہم کی۔
اگرچہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے یہ امید ظاہر ہے کہ امریکہ اور ایران بات چیت کا سلسلہ جاری رکھیں گے تاہم فی الوقت صورت حال زیادہ واضح نہیں ہے۔
