0

پاکستان میں ایران امریکہ مذاکرات میں وہ کون سے نکات ہیں جن پر بات ہو گی؟

11 اپریل//عقاب نیوز ڈیسک///امریکہ اور ایران کے اعلیٰ حکام سنیچر کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جمع ہوئے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ ختم کرنے کے لیے دو طرفہ مذاکرات کیے جا سکیں۔ اس جنگ میں ہزاروں شہری ہلاک ہو چکے ہیں، توانائی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے اور عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
خبررساں ادارے روئٹرز نے چند اہم نکات بیان کیے ہیں جن پر دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت متوقع ہے جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ باضابطہ مذاکرات اسی وقت شروع ہو سکتے ہیں جب امریکہ لبنان میں جنگ بندی اور ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی یقین دہانی کروائے۔
.1 ایران لبنان میں جنگ بندی چاہتا ہے، جہاں مارچ میں لڑائی شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کے جنگجوؤں سمیت تقریباً 2,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کا کہنا ہے کہ لبنان کی مہم ایران-امریکہ جنگ بندی کا حصہ نہیں، جبکہ ایران اس کو اسی جنگ کا حصہ قرار دیتا ہے۔
2 ایران چاہتا ہے کہ امریکہ اس کے منجمد اثاثے بحال کرے اور ان پابندیوں کا خاتمہ کرے جنہوں نے برسوں سے اس کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ امریکہ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ بڑی حد تک پابندیوں میں نرمی پر آمادہ ہو سکتا ہے، لیکن اس کے بدلے ایران سے اس کے جوہری اور میزائل پروگرام پر رعایتیں چاہتا ہے۔
.3 ایران آبنائے ہرمز پر اپنی بالادستی برقرار رکھنے کے علاوہ وہاں سے گزرنے والی بحری آمدورفت سے ٹول وصول کرنے اور اس کو کنٹرول کرنے کا خواہاں ہے، جو خطے میں طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی ہو گی۔ امریکہ چاہتا ہے کہ تیل بردار جہازوں اور دیگر ٹریفک کے لیے یہ راستہ کسی قسم کی پابندی حتیٰ کہ ٹول کے بغیر کھلا رہے۔
4 توقع ہے کہ ایران چھ ہفتوں پر مشتمل جنگ کے دوران ہونے والے تمام نقصانات کے ہرجانے کا مطالبہ کرے گا، تاہم امریکہ نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
.5 ایران یورینیم کی افزودگی کی اجازت چاہتا ہے، جسے امریکہ مسترد کر چکا ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ واضح کر چکے ہیں کہ اس موضوع پر بات چیت نہیں ہوگی۔
.6 اسرائیل اور امریکہ دونوں چاہتے ہیں کہ ایران کی میزائل صلاحیتوں میں نمایاں کمی کی جائے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے طاقت ور میزائل نظام پر کوئی بات نہیں کرے گا۔
.7 ایران خطے سے امریکی جنگی افواج کے انخلا، ہر محاذ پر جنگ کے خاتمے اور عدم جارحیت کی یقین دہانی کا مطالبہ بھی کر رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ واضح کیا ہے کہ امن معاہدہ طے پانے تک مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اثاثے برقرار رکھے جائیں گے، اور خبردار کیا ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو لڑائی میں بڑے پیمانے پر شدت آ سکتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں