0

منشیات کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن: 100 دن میں سخت اقدامات کا خاکہ پیش

جموں:11 اپریل//عقاب نیوز ڈیسک///ایم اے اسٹیڈیم میں ہفتہ کے روز لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منشیات کے خلاف 100 روزہ مہم “نشہ مکت جموں و کشمیر” کا باضابطہ آغاز کرتے ہوئے سخت اقدامات کا اعلان کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ منشیات فروشوں کے پاسپورٹ، آدھار کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کیے جائیں گے جبکہ ان کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں ضبط، بینک اکاؤنٹس منجمد اور مالیاتی تحقیقات شروع کی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بڑے منشیات فروشوں کی شناخت تھانہ سطح پر ظاہر کی جائے گی تاکہ احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔

لیفٹیننٹ گورنر نے منشیات کے مسئلے کو سکیورٹی کے تناظر میں بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ دہشت گردی کی فنڈنگ کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور ایک پڑوسی ملک نوجوانوں کو تباہ کرنے کے لیے اس زہر کو فروغ دے رہا ہے۔ انہوں نے متعلقہ ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ بے گناہوں کو ہراساں نہ کیا جائے لیکن قصوروار کسی صورت بچ نہ سکیں۔

انہوں نے اس مہم کو عوامی تحریک بنانے پر زور دیتے ہوئے جموں و کشمیر بھر میں پد یاترا اور بیداری مہمات شروع کرنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ صرف حکومت اکیلے نہیں جیت سکتی بلکہ معاشرے کے ہر طبقے، خاص طور پر نوجوانوں، سول سوسائٹی اور کمیونٹی رہنماؤں کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ خواتین، بالخصوص ماؤں اور بہنوں کے کردار کو بھی انہوں نے نہایت اہم قرار دیا۔

لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ آئندہ 100 دن نہایت اہم ہیں اور اس دوران ایک جامع حکمت عملی کے تحت گاؤں گاؤں اور شہروں میں آگاہی مہمات، تعلیمی اداروں میں کونسلنگ، کمیونٹی انگیجمنٹ اور حساس طبقات تک خصوصی رسائی کو یقینی بنایا جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ حکومت نے “جموں و کشمیر سبسٹینس یوز ڈس آرڈر ٹریٹمنٹ، کونسلنگ اینڈ ریہیبلیٹیشن سینٹر رولز 2026” کو نوٹیفائی کیا ہے تاکہ ڈی ایڈکشن مراکز کی مؤثر نگرانی ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ صرف مستند اور معیاری سہولیات رکھنے والے مراکز کو ہی کام کرنے کی اجازت دی جائے گی جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

اس موقع پر انہوں نے انسانی ہمدردی کے پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ نشے کے عادی افراد کو علاج، کونسلنگ اور بحالی کے مکمل مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ ایک نارمل زندگی کی طرف واپس لوٹ سکیں، جبکہ منشیات کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف سخت ترین کارروائی جاری رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں