0

جموں و کشمیر کا 80٪ قرض پرانے واجبات کی نذر

جموں و کشمیر کا 80 فیصد قرض پرانے واجبات کی ادائیگی میں صرف
بڑھتا سودی بوجھ، کمزور سرمایہ کاری اور گارنٹیوں کا دباو ¿ مالی گنجائش محدود کر رہا ہے

سرینگر//12 اپریل// جموں و کشمیر کی مالی صورتحال پر تازہ آڈٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ حکومت کی بڑی مالی گنجائش قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہو رہی ہے، جس کے باعث ترقیاتی اخراجات کے لیے وسائل محدود ہوتے جا رہے ہیں۔کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا (سی اے جی) کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25کے دوران حاصل کیے گئے نئے قرض کا 80 فیصد سے زائد حصہ پرانے قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہوا، جس سے حکومت کے پاس ترقیاتی منصوبوں کے لیے کم وسائل بچے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجموعی عوامی قرض بڑھ کر 1.27 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے، تاہم اصل تشویش قرض کی بڑھتی لاگت اور اس کے استعمال کے انداز پر ہے۔ قرض پر سودی ادائیگیاں گزشتہ پانچ برسوں میں نمایاں طور پر بڑھ کر 10,874 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہیں، جو حکومتی آمدنی کا بڑا حصہ کھا رہی ہیں۔یو این ایس کے مطابق سی اے جی کے مطابق سودی ادائیگیوں میں اضافے کے باعث حکومت کی مالی گنجائش متاثر ہو رہی ہے۔ سود بمقابلہ آمدنی تناسب بڑھ کر 14.62 فیصد ہو گیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آمدنی کا بڑا حصہ قرضوں کی خدمت میں صرف ہو رہا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے کی گئی سرمایہ کاری مطلوبہ منافع نہیں دے رہی۔ قرض لینے کی اوسط لاگت 9.68 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ سرمایہ کاری پر منافع اس سے کہیں کم ہے، جس سے مالی دباو ¿ مزید بڑھ رہا ہے۔لیکویڈیٹی مینجمنٹ میں کچھ بہتری کے باوجود حکومت اب بھی قلیل مدتی قرضوں پر انحصار کر رہی ہے۔ 2024-25میں 172 دن تک ریزرو بینک سے ایڈوانس یا اوور ڈرافٹ لیا گیا، جو کیش مینجمنٹ میں دباو ¿ کو ظاہر کرتا ہے۔رپورٹ کے مطابق حکومت کی مشروط ذمہ داریاں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ مارچ 2025 تک سرکاری ضمانتیں 23,622 کروڑ روپے تک پہنچ گئیں، جن میں سے بڑی تعداد بجلی کے شعبے سے متعلق ہے۔ کمزور مالی حالت والے اداروں کو دی گئی یہ ضمانتیں مستقبل میں حکومت کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ایک اور اہم مسئلہ سابق ریاست جموں و کشمیر کا 82,050 کروڑ روپے سے زائد کا قرض ہے، جو ابھی تک جموں و کشمیر اور لداخ کے درمیان تقسیم نہیں ہوا، جس سے اصل مالی تصویر غیر واضح رہتی ہے۔اگرچہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پرائمری بیلنس سرپلس میں آ گیا ہے اور ریونیو اکاونٹ بھی بہتر ہوا ہے، تاہم سی اے جی نے خبردار کیا ہے کہ یہ بہتری عارضی ہو سکتی ہے اگر بنیادی مسائل حل نہ کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق بڑھتا ہوا قرض، سودی بوجھ، کم منافع اور بڑھتی گارنٹیز اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ حکومت محتاط مالی حکمت عملی اپنائے، ورنہ مستقبل میں مالی پائیداری کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں