سرینگر//10اپریل// جموں و کشمیر میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران بجلی کی مقامی پیداوار میں مسلسل کمی دیکھی گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2020-21میں 17,441.97 ملین یونٹس بجلی پیدا ہوئی تھی، جو کم ہو کر 2025-26(جنوری 2026 تک) 14,659.92 ملین یونٹس رہ گئی ہے، جس سے خطے میں توانائی کے شعبے میں چیلنجوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔یہ معلومات وزارت بجلی کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کی گئی ہیں، جہاں مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بجلی کی پیداوار سے متعلق تفصیلات فراہم کی گئیں۔ اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں بجلی کی پیداوار کا زیادہ تر انحصار ہائیڈرو پاور منصوبوں پر ہے، جبکہ اس عرصے کے دوران کوئلہ، گیس یا دیگر تھرمل ذرائع سے بجلی پیدا نہیں کی گئی۔یو این ایس کے مطابق سالانہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 2021-22میں پیداوار 17,489.83 ملین یونٹس تک پہنچی، تاہم اس کے بعد مسلسل کمی کا رجحان برقرار رہا۔ 2022-23میں 17,170.62 ملین یونٹس، 2023-24میں 16,282.93 ملین یونٹس اور 2024-25میں 15,595.82 ملین یونٹس بجلی پیدا ہوئی، جو 2025-26کے ابتدائی مہینوں میں مزید کم ہو گئی۔رپورٹ کے مطابق بجلی کی پیداوار میں بڑے ہائیڈرو پاور منصوبوں کا سب سے زیادہ حصہ ہے، جبکہ چھوٹے ہائیڈرو اور شمسی توانائی کا کردار نہایت محدود ہے۔ مثال کے طور پر 2020-21میں شمسی توانائی سے صرف 9.42 ملین یونٹس جبکہ 2021-22میں محض 1.71 ملین یونٹس بجلی پیدا کی گئی، جو متبادل توانائی کے کمزور استعمال کو ظاہر کرتا ہے۔ادھرر لداخ میں بھی بجلی کی پیداوار محدود سطح پر رہی ہے۔ وہاں 2020-21میں 376.21 ملین یونٹس بجلی پیدا ہوئی تھی جو 2025-26(جنوری تک) بڑھ کر 431.14 ملین یونٹس تک پہنچ گئی، تاہم یہ اضافہ مجموعی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی تصور کیا جا رہا ہے۔مرکزی حکومت کے مطابق مختلف اسکیموں کے تحت جموں و کشمیر کو بجلی کے شعبے میں بہتری کے لیے فنڈز بھی فراہم کیے گئے۔ ان میں 2020-21میں 14.21 کروڑ روپے، 2021-22میں 51.78 کروڑ روپے، 2022-23میں 29.43 کروڑ روپے، 2024-25میں 77.35 کروڑ روپے اور 2025-26میں دسمبر 2025 تک 127.02 کروڑ روپے شامل ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر اور لداخ میں ہائیڈرو اور شمسی توانائی کی بڑی صلاحیت موجود ہونے کے باوجود اس کا مکمل استعمال نہیں ہو پا رہا۔ ان کے مطابق زیر تعمیر ہائیڈرو پاور منصوبوں کی جلد تکمیل، بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری اور شمسی توانائی کے منصوبوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ خطہ توانائی کے شعبے میں خود کفالت حاصل کر سکے۔
0
