سرینگر، 10 اپریل (یو این آئی) حریت چیئرمین اور عالم میرواعظ عمر فاروق نے جمعہ کے روز کہا کہ دنیا اسلام آباد کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھ رہی ہے تاکہ کسی پیش رفت کے ذریعے مزید تصادم کو روکا جا سکے۔ انہوں نے خطے میں پائیدار امن کے لیے مسلسل مکالمے اور انصاف پر مبنی روابط پر زور دیا۔
سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ جنگ میں کوئی حقیقی فاتح نہیں ہوتا، کیونکہ ہر کوئی جانوں، عزت اور انسانیت کے نقصان کا شکار ہوتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ“پوری دنیا امید اور توقع کے ساتھ اسلام آباد کی طرف دیکھ رہی ہے، ایک ایسی پیش رفت کے انتظار میں جو خطے کو مزید تنازع سے بچائے اور امن بحال کرے۔ جموں و کشمیر کے عوام بھی امید رکھتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات ایران، لبنان اور بالآخر فلسطین کے عوام کو تشدد اور مصائب کے چکر سے نجات دلائیں گے۔”
میرواعظ نے کہا کہ کشمیر کے عوام جنگ اور تنازع کے نقصان اور بے فائدگی کو بخوبی سمجھتے ہیں کیونکہ انہوں نے خود دہائیوں تک غم، نقصان اور تکلیف برداشت کی ہے۔
انہوں نے کہاکہ“جنگ میں کوئی حقیقی فاتح نہیں ہوتا، ہر کوئی ہارتا ہے — جانوں میں، وقار میں اور انسانیت میں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ طویل تنازعات تباہی، ذہنی صدمے اور ایسی زخم چھوڑ جاتے ہیں جو نسلوں تک باقی رہتے ہیں اور نفرت اور تعصب کو جنم دیتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سب سے بامعنی اور مہذب راستہ سنجیدہ بات چیت اور انصاف پر مبنی مکالمہ ہے، جس میں تمام فریقین کے حقیقی مسائل کا ازالہ کیا جائے۔ ان کے مطابق دیرپا امن طاقت کے ذریعے مسلط نہیں کیا جا سکتا بلکہ صرف خلوص اور تعمیری مذاکرات سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔
لبنان میں حالیہ واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے میرواعظ نے بیروت میں شہریوں کے قتل کی شدید مذمت کی اور اسرائیلی حکومت کو “مسلسل تشدد کا مرتکب” اور “امن کی ہر حقیقی کوشش کو سبوتاژ کرنے والا” قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف بحران کو گہرا کرتے ہیں بلکہ کشیدگی کم کرنے کی تمام کوششوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ جب تک بنیادی مسئلہ — فلسطینی عوام کے اپنی سرزمین پر جائز اور ناقابلِ تنسیخ حقوق — انصاف کے ساتھ حل نہیں کیا جاتا، تب تک کوئی دیرپا حل ممکن نہیں۔
میرواعظ نے عالمی امن کے لیے دعا کے ساتھ اپنے خطاب کا اختتام کیا، خونریزی اور انسانی تکالیف کے خاتمے کی اپیل کی، اور انسانیت سے کہا کہ وہ تنازعات سے بالاتر ہو کر امن اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرے۔
یواین آئی۔
0
