0

لداخ کو آخرکار آدھار میں علیحدہ شناخت مل گئی، ‘ریاست’ کے خانے میں جموں و کشمیر کی جگہ لے لی

لہہ، 10 اپریل (یو این آئی) لداخ کو آدھار ریکارڈز میں باضابطہ طور پر ایک علیحدہ شناخت دے دی گئی ہے، جہاں اب ‘ریاست’ کے خانے میں “جموں و کشمیر” کی جگہ “لداخ” درج کیا گیا ہے۔
اگرچہ 2019 میں جموں و کشمیر سے الگ ہو کر لداخ کو ایک مرکز کے زیر انتظام علاقہ (یونین ٹیریٹری) بنایا گیا تھا، لیکن اس کے باوجود لداخ کے لوگوں کے آدھار ریکارڈز میں پرانا نام یعنی “جموں و کشمیر” ہی درج تھا، جس کی وجہ سے لوگوں کو کافی مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر، ونے کمار سکسینہ نے اس طویل عرصے سے زیر التوا مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے انتظامیہ کو ہدایت دی کہ اسے جلد از جلد حل کیا جائے۔
یو ٹی کے ایک ترجمان کے مطابق اس کے بعد انتظامیہ نے اس معاملے کو اعلیٰ سطح پر یونیک آئیڈینٹیفکیشن اتھارٹی آف انڈیا (یو آئی ڈی اے آئی) کے ساتھ اٹھایا۔
ترجمان نے کہاکہ “یہ طویل عرصے سے منتظر اصلاح اب کامیابی کے ساتھ نافذ کر دی گئی ہے، جس سے لداخ کی الگ علاقائی شناخت کو آدھار میں درست طور پر ظاہر کیا جا سکے گا۔”
یو ٹی انتظامیہ نے یو آئی ڈی اے آئی کے ساتھ مل کر ایک نیا طریقہ کار تیار کیا، جس کے تحت ہر فرد کو آدھار سینٹر جا کر تبدیلی کروانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ اس کے بجائے، لداخ کے مخصوص پن کوڈز کی بنیاد پر مرکزی سطح پر ریکارڈز کو اپڈیٹ کیا گیا۔
ان پن کوڈز کی تصدیق محکمہ ڈاک کے تعاون سے کی گئی اور پھر یو آئی ڈی اے آئی کو فراہم کی گئی۔
آدھار ریکارڈز میں “جموں و کشمیر” کا نام برقرار رہنے کی وجہ سے لداخ کے باشندوں کو کافی مشکلات کا سامنا تھا۔
لوگوں کو مختلف خدمات حاصل کرنے کے دوران آدھار کو بطور شناخت اور پتہ کے ثبوت استعمال کرنے میں دشواری پیش آ رہی تھی، کیونکہ ‘ریاست’ کا خانہ لداخ کی نئی حیثیت سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔
اس مسئلے نے نہ صرف عوام کو پریشان کیا بلکہ آدھار سے منسلک ریکارڈز اور رپورٹوں میں لداخ کی درست نمائندگی کو بھی متاثر کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر سکسینہ نے کہا کہ اس پیش رفت سے لداخ کے عوام کو بڑی سہولت ملے گی کیونکہ اس سے انتظامی رکاوٹیں ختم ہوں گی اور خدمات تک رسائی آسان ہو جائے گی۔
انہوں نے کہاکہ “یہ یقینی بنانا کہ لداخ کی شناخت سرکاری ریکارڈز میں درست طور پر ظاہر ہو، نہ صرف انتظامی ضرورت ہے بلکہ ہمارے لوگوں کی شناخت اور سہولت کا بھی معاملہ ہے۔ اس طویل عرصے سے زیر التوا مسئلے کا کامیاب حل، یو ٹی انتظامیہ کے عوام دوست طرز حکمرانی، آسان طرز زندگی اور لداخ کی منفرد شناخت کو تمام سرکاری پلیٹ فارمز پر یقینی بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔”
اس پیش رفت سے لداخ کے لوگوں کو نمایاں راحت ملی ہے کیونکہ اب انہیں اپنے ریکارڈز اپڈیٹ کروانے کے لیے آدھار سینٹر جانے کی ضرورت نہیں رہی۔ لوگ اب آسانی سے یو آئی ڈی اے آئی کی سرکاری ویب سائٹ سے اپنا اپڈیٹ شدہ ای-آدھار ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں، اور جو لوگ پی وی سی آدھار کارڈ حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ معمولی فیس ادا کر کے آن لائن آرڈر بھی کر سکتے ہیں۔
یواین آئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں