0

جموں و کشمیر میں ٹنل منصوبوں کیلئے 9,779 کروڑ روپے کی منظوری

ہر موسم میں آمدورفت، سیاحت اور معیشت کو فروغ دینے کی توقع// ڈاکٹر جتندر سنگھ

سرینگر//15ُٓاپریل/ / جموں و کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی سمت ایک بڑی پیش رفت کے طور پر نیشنل ہائی وے-244 پر دو اہم جڑواں ٹنل منصوبوں کی منظوری دے دی گئی ہے، جن پر مجموعی طور پر 9,779.42 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ ان منصوبوں سے خاص طور پر ڈوڈہ، کشتواڑ اور ا ±دھم پور اضلاع میں سڑک رابطہ نمایاں طور پر بہتر ہونے کی امید ہے۔ مرکزی وزیر جتندر سنگھ نے اس پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبے نہ صرف خطے کے لیے خوش آئند ہیں بلکہ اس سے ان خدشات کا بھی خاتمہ ہو گیا ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ یہ پروجیکٹس التوا کا شکار ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جموں و کشمیر میں جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے سنجیدہ اور پرعزم ہے۔یو این ایس کے مطابق تفصیلات کے مطابق، سودھ مہادیو،درانگہ یونِی ڈائریکشنل ٹوئن ٹیوب ٹنلز کی لمبائی 12.85 کلومیٹر ہوگی، جس میں دو رویہ سڑک کے ساتھ متوازی سروس روٹس بھی شامل ہوں گے۔ اسی طرح سنگھ پورہ،ویلو ٹوئن ٹیوب ٹنل کی مجموعی لمبائی 38.61 کلومیٹر رکھی گئی ہے، جو خطے کے مشکل اور پہاڑی راستوں کو آسان اور محفوظ بنائے گی۔یہ منصوبے نہ صرف سفر کے دورانیے کو کم کریں گے بلکہ موسم سرما اور خراب موسمی حالات میں بھی سڑک رابطہ برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ چناب وادی کے پہاڑی علاقوں میں اکثر برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث آمدورفت متاثر ہوتی ہے، تاہم ان جدید ٹنلز کی تعمیر کے بعد سال بھر بلا رکاوٹ سفر ممکن ہو سکے گا۔مرکزی وزیر نے اس منظوری پر وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ جموں و کشمیر کی ترقی کے لیے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے اور خطے کو قومی دھارے کے ساتھ مزید مضبوطی سے جوڑنے میں مددگار ثابت ہوگا۔دریں اثنا، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی ان منصوبوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام جموں و کشمیر، بالخصوص چناب وادی، کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بہتر سڑک رابطہ نہ صرف عوامی سہولیات میں اضافہ کرے گا بلکہ تجارت، سیاحت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ان منصوبوں سے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور خطے کی معیشت کو نئی رفتار ملے گی۔ بہتر انفراسٹرکچر کے ذریعے دور دراز علاقوں کو مرکزی شہروں سے جوڑنے سے تعلیمی، طبی اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے بڑے انفراسٹرکچر منصوبے جموں و کشمیر کی مجموعی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے اور خاص طور پر ان علاقوں کو فائدہ پہنچائیں گے جو طویل عرصے سے بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں