جموں:13 اپریل/عقاب ویب ڈیسک//جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے خطے کو منشیات کی لعنت سے پاک کرنے کے لیے ایک ہمہ گیر عوامی مہم ’ڈرگ فری جموں و کشمیر‘ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ کٹھوعہ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئندہ تین ماہ اس مشن کی کامیابی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ یہ مہم محض ایک روایتی سرکاری کارروائی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اسے ایک وسیع عوامی تحریک کی شکل دی جا رہی ہے تاکہ معاشرے کے ہر فرد کو اس سماجی برائی کے خلاف جنگ میں شامل کیا جا سکے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے واضح کیا کہ ایک محفوظ اور مستحکم مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے اب ٹھوس اور طویل مدتی حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
اس مہم کی اہمیت کا اندازہ جموں و کشمیر میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ ایک محتاط اندازے اور آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمز) کی حالیہ رپورٹس کے مطابق جموں و کشمیر میں تقریباً چھ لاکھ سے زائد افراد کسی نہ کسی سطح پر منشیات کی لت کا شکار ہیں، جو کل آبادی کا لگ بھگ پانچ فیصد بنتا ہے۔ اس کے علاوہ صرف حالیہ عرصے کے دوران 31 ہزار سے زائد افراد نے منشیات چھڑانے کے سرکاری مراکز سے علاج کی سہولت حاصل کی ہے۔ یہ تشویشناک اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں بحالی اور انسدادِ منشیات کی کوششوں کو جنگی بنیادوں پر تیز کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے منوج سنہا نے معاشرتی رویوں میں ایک بنیادی نوعیت کی تبدیلی لانے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نشے کے عادی افراد کو مجرم کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے انہیں ایک ایسے مریض کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے جسے ہمدردی، علاج اور مناسب توجہ کی ضرورت ہے۔ حکومت کی جانب سے اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ بحالی کے موجودہ مراکز کو مزید مستحکم اور فعال بنایا جائے تاکہ متاثرہ نوجوان مکمل صحت یاب ہو کر دوبارہ معاشرے کا ایک مفید اور کارآمد حصہ بن سکیں۔ اس حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سماجی سطح پر بیداری بھی نہایت اہمیت کی حامل ہے۔
اس پوری مہم کے مرکز میں نوجوان نسل کو رکھا گیا ہے جن کی توانائیوں کو درست اور مثبت سمت میں موڑنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے اپیل کی کہ نوجوانوں کے اندر موجود بے پناہ صلاحیتوں کو ابھار کر انہیں عالمی سطح پر اپنی شناخت بنانے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے عوام سے التماس کی کہ وہ اس طویل مدتی جنگ میں متحد ہو کر اپنا کلیدی کردار ادا کریں، اپنے اردگرد کے ماحول پر کڑی نظر رکھیں اور اس لعنت کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت کا ساتھ دیں۔ آئندہ تین ماہ کے دوران بڑے پیمانے پر آگاہی پروگراموں، بحالی کے جامع منصوبوں اور کڑی نگرانی کے ذریعے جموں و کشمیر کو ایک صحت مند، اور منشیات سے مکمل طور پر پاک معاشرہ بنانے کی جانب فیصلہ کن قدم اٹھایا جائے گا۔
0
