0

بی جے پی قومی صدر کا پہلا دورہ جموں و کشمیر اپریل کے آخر میں 3 روزہ پروگرام، سرینگر میںعوامی جلسہ بھی زیر غور

سرینگر//13اپریل// بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر نیتن نبین رواں ماہ کے آخر تک جموں و کشمیر کے تین روزہ دورے پر آئیں گے، جو جنوری میں پارٹی کی کمان سنبھالنے کے بعد یونین ٹیریٹری کا ان کا پہلا باضابطہ دورہ ہوگا۔ اس دورے کو پارٹی کے لیے نہایت اہم تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے تنظیمی ڈھانچے کا جائزہ لینے اور آئندہ سیاسی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق، یتن نبیناپنے دورے کے دوران دو دن جموں خطے میں جبکہ ایک دن وادی کشمیر میں قیام کریں گے۔ ان کے ہمراہ پارٹی کے کئی مرکزی عہدیداران، جموں و کشمیر کے انچارج اور دیگر سینئر رہنما بھی نئی دہلی سے یہاں پہنچیں گے۔ اس موقع پر مختلف اجلاسوں، میٹنگز اور کارکنان سے براہ راست ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔یو این ایس کے مطابق دورے کے دوران مرکزی وزیر مملکت برائے وزیر اعظم دفتر ڈاکٹر جتندر سنگھ اپوزیشن لیڈر سنیل شرماپارٹی کے ارکان پارلیمنٹ اور یو ٹی صدر ست شرماسمیت دیگر اہم رہنما بھی شرکت کریں گے۔ ان رہنماو ¿ں کی موجودگی میں تنظیمی سطح پر تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے۔پارٹی ذرائع نے بتایا کہ بی جے پی کی جانب سے موسمِ گرما میں سرینگر میں ایک بڑے عوامی اجتماع (میگا میٹ) کے انعقاد کی بھی تجویز زیر غور ہے۔ اس مجوزہ اجلاس کا مقصد وادی کشمیر میں امن، ترقی اور سیاسی استحکام کا پیغام دینا بتایا جا رہا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ اجلاس مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جاری انتخابی عمل کی تکمیل کے بعد منعقد کیا جائے گا، تاہم اس کی حتمی تاریخ کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ نیتن نبین نے 20 جنوری کو جے پی نڈاسے پارٹی کی صدارت سنبھالی تھی، لیکن اس کے بعد سے وہ جموں و کشمیر کا دورہ نہیں کر سکے تھے۔ اس تناظر میں ان کا یہ دورہ سیاسی اور تنظیمی لحاظ سے خاص اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ جموں و کشمیر اسمبلی میں بی جے پی 29 ارکان اسمبلی کے ساتھ دوسری بڑی جماعت ہے۔ جموں خطے میں بی جے پی نے اپنی تمام نشستیں جیتی ہیں، تاہم وادی کشمیر میں پارٹی کو کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دورے کے دوران پارٹی کی تنظیمی سرگرمیوں، بطور اپوزیشن کردار اور آئندہ انتخابات کے لیے روڈ میپ پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔ خاص طور پر وادی کشمیر میں پارٹی کی موجودگی کو مضبوط بنانے، کارکنان کو متحرک کرنے اور عوامی سطح پر رسائی بڑھانے کی حکمت عملی پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔اس کے علاوہ جموں و کشمیر اسمبلی میں نامزد نشستوں کے معاملے پر بھی گفتگو متوقع ہے، جہاں پانچ نشستیں گزشتہ ڈیڑھ برس سے خالی پڑی ہیں۔ ان نشستوں میں دو خواتین، دو کشمیری مہاجرین (جن میں ایک خاتون) اور ایک پاکستان زیر انتظام جموں و کشمیر کے مہاجر کے لیے مخصوص نمائندگی شامل ہے۔ اگرچہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، تاہم پارٹی کے بعض حلقے اس پر پیش رفت کے خواہاں ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ نیتن نبین اپنے دورے کے دوران صرف جموں اور سرینگر تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دیگر اضلاع کا بھی دورہ کریں گے۔ اس دوران وہ نچلی سطح کے کارکنان، مقامی قیادت اور عوامی نمائندوں کے ساتھ براہ راست بات چیت کر کے زمینی صورتحال کا جائزہ لیں گے۔سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ دورہ نہ صرف بی جے پی کی تنظیمی سرگرمیوں کو نئی سمت دے سکتا ہے بلکہ جموں و کشمیر کی آئندہ سیاست پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اگلے انتخابات کے لیے ابھی کافی وقت باقی ہے اور تمام جماعتیں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے میں مصروف ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں