2025-26میں 415 بلڈنگ پرمٹ اجرا، گزشتہ دو برسوں سے زیادہ
سرینگر//13اپریل// جموں و کشمیر میں سیاحت کے شعبے میں تیزی سے بڑھتی سرگرمیوں کے درمیان ٹورازم ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کی جانب سے 2025-26کے دوران 415 تعمیراتی اجازت نامے جاری کیے گئے، جو گزشتہ تین برسوں میں سب سے زیادہ ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد گزشتہ دو مالی برسوں کے مجموعی اعداد سے بھی زیادہ ہے، جو خطے میں سیاحتی ترقی کے رجحان کو ظاہر کرتی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق 2023 سے 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 807 بلڈنگ پرمٹس جاری کیے گئے، جن میں 245 اجازت نامے 2023-24میں، 147 سال 2024-25 میں اور 415 اجازت نامے 2025-26میں جاری کیے گئے۔ ان میں رہائشی مکانات، تجارتی عمارتیں، ہوٹلوں، ہٹوں اور گیسٹ ہاو ¿سز شامل ہیں، جو سیاحت سے جڑے انفراسٹرکچر میں وسعت کی نشاندہی کرتے ہیں۔یو این ایس کے مطابق محکمہ سیاحت کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران 544 رہائشی مکانات، 121 کمرشل عمارتیں، 26 ہوٹلز، 14 ہٹس اور 2 گیسٹ ہاو سز کی تعمیر کے لیے اجازت دی گئی۔ اس کے علاوہ جموں و کشمیر بھر میں 2,613 ہوم اسٹے یونٹس رجسٹر کیے گئے ہیں، جن میں مجموعی طور پر 19,328 بستروں کی گنجائش موجود ہے، جو سیاحوں کی بڑھتی ہوئی آمد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک اہم پیش رفت ہے۔دوسری جانب حکام نے سیاحتی مقامات پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بھی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ گزشتہ تین مالی برسوں میں 500 سے زائد غیر مجاز تعمیرات کی نشاندہی کی گئی، جن کے خلاف نوٹس جاری کیے گئے، ایف آئی آر درج کی گئیں، جرمانے عائد کیے گئے اور کئی جگہوں پر انہدامی کارروائیاں بھی انجام دی گئیں۔اعداد و شمار کے مطابق جموں خطے کے بھدرواہ میں سب سے زیادہ 358 غیر قانونی تعمیرات سامنے آئیں، جہاں خلاف ورزی کرنے والوں کو نوٹس جاری کیے گئے۔ کشمیر میں دودھ پتھری میں 147 غیر مجاز تعمیرات کی نشاندہی ہوئی، جبکہ پہلگام میں 28 میں سے 13 تعمیرات کو سیل کیا گیا اور باقی کے خلاف کارروائی جاری ہے۔اسی طرح مشہور سیاحتی مقام گلمرگ میں 21 غیر قانونی ڈھانچے سامنے آئے جن میں سے 20 کو سیل اور ایک کو منہدم کیا گیا، جبکہ سونہ مرگ میں 5 اور ویری ناگ میں 4 غیر مجاز تعمیرات پر جرمانے عائد کیے گئے۔ جموں خطے کے پٹنی ٹاپ میں 15 غیر قانونی ڈھانچوں کو منہدم کیا گیا جبکہ دیگر کو ابتدائی مرحلے میں ہی روک دیا گیا۔حکام کے مطابق ماسٹر پلان والے علاقوں جیسے گل مرگ، پہلگام اور سونمرگ میں مجاز تعمیرات کا ’جی آئی ایس‘پر مبنی ریکارڈ رکھا جا رہا ہے، جبکہ دیگر علاقوں میں بھی تعمیرات کی نگرانی کے لیے جیو کوآرڈینیٹس کا حصول لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ ضوابط کی مو ¿ثر عملداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
