0

چرس کی برآمدگی کے بعد پانچ سال گزارے جیل میں، سستی رفتار عدالتی کارروائی پر ہائی کورٹ کا نوٹس

سرینگر: ہائی کورٹ آف جموں کشمیر اینڈ لداخ نے منشیات سے متعلق ایک کیس میں ٹرائل کورٹ کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بغیر کسی معقول عدالتی حکم کے کارروائی کو صرف “مشینی انداز” میں مؤخر کرنا درست نہیں، خاص طور پر جب مقدمہ آخری دلائل کے مرحلے تک پہنچ چکا ہو۔

جسٹس رجنیش اوسوال نے 10 صفحات پر مشتمل فیصلے میں ملزم افروز احمد شیخ کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی، جس پر تجارتی مقدار میں چرس کی برآمدگی کا الزام ہے۔ عدالت نے کہا کہ اصل سوال محض حراست کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ آیا ٹرائل کورٹ نے شریک ملزم کے خلاف ضمنی شکایت کے بعد مرکزی مقدمے کی سماعت قانونی طور پر روکی یا نہیں۔

عدالت نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے یہ فیصلہ سوچے سمجھے بغیر کیا اور یہ “مشینی انداز” تھا۔

کیا ہے اصل معاملہ؟
یہ معاملہ سال 2020 میں 5.4 کلو چرس کی برآمدگی سے متعلق ہے۔ جب ملزم مبینہ طور پر جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع سے گجرات کا سفر جموں کے راستے سے کر رہا تھا۔ اور چرس کی اتنی مقدار Narcotic Drugs and Psychotropic Substances Act, 1985 کے تحت “تجارتی” زمرے میں آتی ہے، جس پر سیکشن 37 کے تحت ضمانت سختی سے محدود ہے۔

ملزم نے طویل حراست کی بنیاد پر ضمانت کی درخواست یہ کہتے ہوئے دی کہ وہ تقریباً پانچ سال سے قید میں ہے اور استغاثہ نے اسی عرصے میں صرف چھ گواہ ہی پیش کیے ہیں۔

مرکزی مقدمے میں استغاثہ کی شہادت مکمل ہو چکی تھی اور ملزم کا بیان بھی ریکارڈ ہو گیا تھا، اور مقدمہ حتمی دلائل کے مرحلے پر تھا۔ اسی دوران استغاثہ نے شریک ملزم غلام محی الدین شاہ کے خلاف ضمنی شکایت کی اطلاع دی، جس کے بعد حتمی دلائل روک دیے گئے۔

ہائی کورٹ نے اس تاخیر کو تشویشناک قرار دیا اور کہا کہ “اگر الگ ٹرائل ممکن ہو تو مرکزی مقدمے کو روکنے کی کوئی وجہ نہیں۔”

ضمانت مسترد
عدالت نے فوری ضمانت دینے سے انکار کیا لیکن ہدایات جاری کیں کہ ” ٹرائل کورٹ 15 دن کے اندر فیصلہ کرے کہ آیا ملزم کے خلاف کارروائی آزادانہ طور پر جاری رہ سکتی ہے یا نہیں، اور 30 دن کے اندر شریک ملزم کے خلاف ضمنی شکایت میں چارج یا ڈسچارج کا فیصلہ کرے۔”

عدالت نے یہ بھی کہا کہ “اگر ٹرائل کورٹ پھر بھی مرکزی مقدمہ مؤخر کرتا ہے تو ملزم دوبارہ ضمانت کے لیے رجوع کر سکتا ہے۔ عدالت نے یاد دلایا کہ این ڈی پی ایس جیسے سخت قوانین میں مقدمات کی جلد تکمیل ضروری ہے۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں