55 برس میں جموں کشمیر میں 74 فیصد جھیلیں متاثر، 2014 جیسے سیلاب کا خدشہ برقرار
سرینگر//12 اپریل// جموں و کشمیر میں قدرتی جھیلوں کے تیزی سے ختم ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے باعث ماحولیاتی توازن، آبی وسائل اور سیلابی صورتحال پر سنگین اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔سی اے جی کی تازہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق 1967 میں موجود 697 جھیلوں میں سے 315 جھیلیں (45 فیصد) مکمل طور پر ختم ہو چکی ہیں، جبکہ 203 جھیلوں (29 فیصد) کا رقبہ کم ہو گیا ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر 518 جھیلیں (74 فیصد) متاثر ہوئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق ختم ہونے والی جھیلوں کا کل رقبہ 1,537.07 ہیکٹر تھا، جبکہ سکڑنے والی جھیلوں کے رقبے میں 1,314.19 ہیکٹر کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 2,851.26 ہیکٹر رقبہ متاثر ہوا۔یو این ایس کے مطابق علاقائی اعتبار سے جموں صوبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں 367 میں سے 259 جھیلیں ختم ہو گئیں، جبکہ کشمیر میں 330 میں سے 56 جھیلیں غائب ہوئیں۔ اسی طرح رقبہ کم ہونے والی 203 جھیلوں میں سے 59 جموں اور 144 کشمیر میں واقع ہیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 63 جھیلوں کا رقبہ 50 فیصد سے زائد کم ہو چکا ہے، جس کے باعث ان کے مکمل خاتمے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔اگرچہ کچھ مثبت پہلو بھی سامنے آئے ہیں، جہاں 150 جھیلوں (22 فیصد) کے رقبے میں 538.22 ہیکٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم متعلقہ محکمے اس اضافے کی وجوہات کا تعین نہیں کر سکے۔ اسی طرح 29 جھیلوں (4 فیصد) کا رقبہ 14,535.76 ہیکٹر پر برقرار رہا۔رپورٹ کے مطابق جھیلوں کے خاتمے اور سکڑاو ¿ کے باعث نہ صرف حیاتیاتی تنوع متاثر ہوا ہے بلکہ پانی کے ذخائر، خوراکی نظام اور ماحولیاتی توازن بھی متاثر ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کاربن اور غذائی اجزاءکے قدرتی چکر میں بھی خلل پڑا ہے۔سی اے جی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ جھیلوں کے سکڑنے کو ستمبر 2014 کے تباہ کن سیلاب کی ایک بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے، کیونکہ جھیلیں قدرتی طور پر سیلابی پانی کو جذب کرنے اور بہاو ¿ کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔مزید کہا گیا ہے کہ جھیلوں کے اردگرد زمین کے استعمال میں تبدیلی، تجاوزات اور غیر منصوبہ بند ترقی نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔سی اے جی نے حکومت پر زور دیا ہے کہ جھیلوں کے تحفظ اور بحالی کے لیے مو ¿ثر پالیسی سازی، سائنسی بنیادوں پر منصوبہ بندی اور مسلسل نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ماحولیاتی اور آبی بحران سے بچا جا سکے۔
