0

واشنگٹن میں اہم سفارتی پیش رفت، اسرائیل-لبنان مذاکرات شروع

واشنگٹن، 14 اپریل (یو این آئی) امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان آج منگل کو اعلیٰ سطح کے براہِ راست سفارتی مذاکرات ہوں گے، جو 1993 کے بعد اپنی نوعیت کے پہلے مذاکرات ہیں۔

امریکی سرپرستی میں ہونے والے ان مذاکرات میں اسرائیل کی شمالی سرحد کی طویل مدتی سیکیورٹی اور لبنان کی مکمل خودمختاری کی بحالی جیسے اہم امور زیر بحث آئیں گے۔
عہدیدار نے کہا کہ اسرائیل کی جنگ حزب اللہ کے ساتھ ہے، لبنان کے ساتھ نہیں، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست بات چیت میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔
اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، لبنان میں امریکی سفیر مشیل عیسیٰ، امریکی مشیر مائیکل نیڈہام، امریکہ میں اسرائیل کے سفیر یحیئل لیتر اور امریکہ میں لبنان کی سفیر ندیٰ حمادہ شریک ہوں گے۔
رپورٹس کے مطابق مذاکرات واشنگٹن میں گرینچ وقت کے مطابق دوپہر 2 بجے شروع ہوں گے۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب لبنان-اسرائیل سرحد پر حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔
لبنانی ذرائع کے مطابق بیروت اسرائیل سے جنگ بندی کی مکمل پابندی کا مطالبہ کرے گا، جبکہ اسرائیل حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور سرحدی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے پر زور دے رہا ہے۔
لبنان اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ضمانتیں بھی چاہتا ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ دراندازی سے بچا جا سکے، جبکہ وہ موجودہ کشیدگی سے پیدا ہونے والے معاشی اور سیاسی بحران کو کم کرنا چاہتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کا مقصد سرحد کے قریب حزب اللہ کی موجودگی ختم کرنا، اسلحہ ختم کروانا اور ایرانی اثر و رسوخ کو کم کرنا ہے، جبکہ وہ ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی کی آزادی بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
مذاکرات سے قبل حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے لبنانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرے اور مذاکراتی عمل سے دستبردار ہو جائے۔
انہوں نے کہا کہ خودمختاری کے حصول کا راستہ نومبر 2024 کے معاہدے پر مکمل عمل درآمد میں ہے۔
حزب اللہ کے ایک سینئر رہنما نے بھی واضح کیا کہ تنظیم امریکہ کی سرپرستی میں ہونے والے کسی بھی براہِ راست معاہدے کو تسلیم نہیں کرے گی۔
یاد رہے کہ 2022 میں امریکہ کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان سمندری حدود کے تعین کا معاہدہ طے پایا تھا، جبکہ دسمبر 2025 میں دونوں ممالک نے امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات بھی کیے تھے تاکہ 2024 میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے خاتمے کے معاہدے کو مضبوط بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں