واشنگٹن، 14 اپریل (یو این آئی) امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین ریپبلکن سینیٹر ٹام کاٹن نے کہا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز کی مکمل بحری ناکہ بندی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ ایران کو امریکی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔فاکس نیوز کے پروگرام “فاکس اینڈ فرینڈز” میں گفتگو کرتے ہوئے ٹام کاٹن نے کہا کہ یہ ناکہ بندی پیر کی صبح 10 بجے سے شروع کی جا سکتی ہے، جس کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کو بھی خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے ایران کو فضائی دفاعی نظام یا کندھے پر چلنے والے میزائل فراہم کیے تو اسے 50 فیصد کسٹم ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹام کاٹن نے کہا کہ وہ ایران کی فوجی صلاحیتوں کی بحالی میں چین کے کردار کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتے، تاہم امریکہ اس طرح کے اقدامات کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ چین اپنی تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ اسی خطے سے حاصل کرتا ہے، اس لیے اگر وہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرے گا تو ناکہ بندی اس پر بھی اثر انداز ہوگی۔
سینیٹر کا کہنا تھا کہ امریکہ تمام بحری جہازوں پر ناکہ بندی نافذ کرے گا، یعنی یا تو تمام جہاز باہر نکلیں گے یا کوئی بھی اندر داخل نہیں ہو سکے گا، اور امریکی فوج اس حکمت عملی کو نافذ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
انہوں نے موجودہ صورتحال کو ایران پر فوجی اور معاشی دوہرا دباؤ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی فوج اور خطے میں اپنے اتحادیوں کی مالی معاونت کیلئے آبنائے ہرمز پر انحصار کرتا ہے، اور ناکہ بندی اس کی آمدنی کے اہم ذریعے کو متاثر کرے گی۔
جنگ بندی کے حوالے سے ٹام کاٹن نیواین آئی۔ م س ے کہا کہ یہ ابھی برقرار ہے، تاہم دباؤ اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک تہران امریکی شرائط تسلیم نہیں کرتا، جن میں جوہری مواد کی حوالگی، جوہری ڈھانچے کی بندش اور دہشت گردی کی حمایت کا خاتمہ شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے پاس اب بھی تقریباً ایک ہزار بیلسٹک میزائل اور سو کے قریب لانچنگ پیڈ موجود ہیں، تاہم امریکی فوجی کارروائیاں منصوبہ بندی کے مطابق یا اس سے آگے بڑھ رہی ہیں۔
انٹرویو کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ حقیقی پیش رفت اسی وقت ممکن ہے جب ایران مزید دباؤ محسوس کرے اور سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔
یواین آئی۔
0
