خواتین کیلئے 33 فیصد ریزرویشن کا نفاذ تیز کرنے کی تیاری
حد بندی کمیشن کو غیر معمولی اختیارات، نشستوں کی تعداد، کم از کم 114 نشستیں برقرار رکھنے کی شرط
نامزد ارکان کی تعداد 5 سے بڑھ کر 7، موجودہ اسمبلی متاثر نہیں ہوگی
سرینگر//15ُٓاپریل / مرکزی حکومت خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک جامع قانون سازی پیکج متعارف کرانے جا رہی ہے، جس کے تحت نہ صرف لوک سبھا بلکہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی اسمبلیوں میں بھی نشستوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ16 اپریل کو پارلیمنٹ میں اس سلسلے میں اہم بل پیش کریں گے، جس کے ساتھ آئینی ترمیم، حد بندی قانون اور متعلقہ یونین ٹیریٹریز کے لیے خصوصی قانون سازی بھی شامل ہوگی۔مجوزہ بل کے مطابق حد بندی کمیشن کو جموں و کشمیر میں اسمبلی نشستوں کی تعداد اور حلقہ بندیوں کے تعین کے لیے مکمل اختیارات دیے جائیں گے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس بار کمیشن پر کسی قسم کی حد مقرر نہیں کی گئی، جس سے یہ امکان پیدا ہو گیا ہے کہ اسمبلی کی موجودہ ساخت میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ 2019 کے بعد ہونے والی حد بندی کے برعکس، جب نشستوں کی مجموعی تعداد پہلے سے طے تھی، اس مرتبہ کمیشن کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔بل میں واضح کیا گیا ہے کہ جموں و کشمیر اسمبلی میں براہ راست منتخب نشستوں کی تعداد 114 سے کم نہیں ہوگی، جن میں 24 نشستیں پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے لیے مخصوص رہیں گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ 90 نشستوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ممکن ہے، جو مستقبل کی سیاسی نمائندگی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔جموں کشمیر تنظیم نو قانون 2019 میں مجوزہ ترامیم کے تحت جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی مجموعی تعداد کا تعین حد بندی کمیشن کرے گا، جسے حلقہ بندی اور نشستوں کی تقسیم کے حوالے سے مکمل اختیار حاصل ہوگا۔مجوزہ قانون کے مطابق اسمبلی میں براہِ راست منتخب ارکان کی تعداد 114 سے کم نہیں ہوگی، جس میں 24 نشستیں پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے لیے مخصوص رہیں گی۔ اس طرح عملی طور پر موجودہ 90 نشستوں سے کم تعداد ممکن نہیں، تاہم حد بندی کمیشن کو نشستوں میں اضافہ کرنے کی مکمل آزادی دی گئی ہے۔یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ 2019 کے بعد ہونے والی حد بندی کے برعکس اس مرتبہ کمیشن پر کوئی عددی پابندی عائد نہیں کی گئی، جس سے اسمبلی کی ساخت میں بڑی تبدیلیوں کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔مجوزہ ترامیم کے تحت نامزد ارکان کے کوٹے میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔ حد بندی کے بعد لیفٹیننٹ گورنر کو تین خواتین، تین کشمیری مہاجرین اور ایک پاکستانی قبضہ کشمیرمہاجر کو نامزد کرنے کا اختیار ہوگا، جس سے نامزد ارکان کی مجموعی تعداد پانچ سے بڑھ کر سات ہو جائے گی۔ اس وقت لیفٹنٹ گورنردو خواتین، دو کشمیری مہاجرین اور ایک پاکستانی قبضہ کشمیرمہاجر کو نامزد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔تاہم یہ نئی شقیں اسی وقت نافذ العمل ہوں گی جب حد بندی کمیشن کی رپورٹ نافذ ہو جائے گی۔ اس سے قبل موجودہ نظام ہی برقرار رہے گا۔مجوزہ قانون میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ نئی حلقہ بندی کا اثر موجودہ قانون ساز اسمبلی پر نہیں پڑے گا اور جب تک اسمبلی تحلیل نہیں ہوتی، اس کی نمائندگی میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ مزید برآں، نئی حد بندی کے نافذ ہونے تک اگر انتخابات کرائے جاتے ہیں تو وہ موجودہ حلقہ بندیوں کے مطابق ہی منعقد ہوں گے۔حکام کے مطابق یہ ترامیم مستقبل میں نمائندگی کے ڈھانچے کو ازسرنو ترتیب دینے اور مختلف طبقات کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے اہم قدم تصور کی جا رہی ہیں۔ایک اور اہم تبدیلی کے تحت اسمبلی میں نامزد ارکان کی تعداد بڑھا کر پانچ سے سات کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مجوزہ فارمولے کے مطابق تین خواتین، تین کشمیری مہاجرین اور ایک پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیرمہاجر کو نامزد کیا جائے گا۔ موجودہ قانون کے تحت پانچ ارکان کی گنجائش ہے، جن میں دو خواتین، دو کشمیری مہاجرین (جن میں ایک خاتون) اور ایک پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیرمہاجر شامل ہوتا ہے۔ تاہم قابل ذکر بات یہ ہے کہ موجودہ اسمبلی کی تشکیل کے ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود یہ نامزدگیاں ابھی تک عمل میں نہیں لائی جا سکیں اور اس معاملے پر عدالت میں بھی چیلنج موجود ہے۔بل کے تحت خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کو حد بندی کے بعد نافذ کیا جائے گا، یعنی جب تک حلقہ بندیوں کا عمل مکمل نہیں ہوتا، یہ کوٹہ لاگو نہیں ہوگا۔ یہ ریزرویشن 15 سال کے لیے نافذ رہے گا، جس کے بعد پارلیمنٹ اس کی مدت میں توسیع کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ خواتین کے لیے مخصوص نشستیں مستقل نہیں ہوں گی بلکہ مختلف حلقوں میں باری باری تبدیل کی جائیں گی، تاکہ زیادہ سے زیادہ علاقوں کو نمائندگی کا موقع مل سکے۔یو این ایس کے مطابق مجوزہ قانون سازی کے تحت لوک سبھاکی مجموعی نشستوں میں بھی بڑا اضافہ متوقع ہے۔ ایوان زیریں کی موجودہ 543 نشستوں کو بڑھا کر 850 تک لے جانے کی تجویز ہے، جس میں ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز دونوں کی نمائندگی شامل ہوگی۔ خاص طور پر یونین ٹیریٹریز کی نشستیں موجودہ 19 سے بڑھا کر زیادہ سے زیادہ 35 تک کرنے کا منصوبہ ہے، جو ان علاقوں کی پارلیمانی نمائندگی میں نمایاں اضافہ کرے گا۔حد بندی کمیشن میں جموں و کشمیر سے 10 اراکین کو شامل کیا جائے گا، جن میں پانچ لوک سبھا ممبران اور پانچ اسمبلی ممبران شامل ہوں گے۔ ان اسمبلی اراکین کو اسپیکر کی جانب سے کمیشن کے قیام کے ایک ماہ کے اندر نامزد کیا جائے گا، جس سے مقامی سطح پر نمائندگی کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔بل میں یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ نئی حد بندی کے نفاذ تک موجودہ اسمبلی کی نمائندگی برقرار رہے گی اور اگر اس دوران انتخابات منعقد ہوتے ہیں تو وہ موجودہ حلقہ بندیوں کے تحت ہی ہوں گے۔ نئی حد بندی کے اطلاق کے بعد ہی نشستوں کی نئی تقسیم اور ریزرویشن کا مکمل نفاذ ممکن ہوگا۔
