نئی دہلی،16 اپریل ( یو این آئی)خواتین کے ریزرویشن بل (ناری شکتی وندن ادھینیم) پر پارلیمنٹ میں جاری بحث کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی منشا، مردم شماری میں تاخیر اور ‘حد بندی’ کی شرائط پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔ مختلف علاقائی جماعتوں نے الزام لگایا ہے کہ یہ بل خواتین کو فوری انصاف فراہم کرنے کے بجائے مستقبل کے نامعلوم وعدوں پر مبنی ہے۔
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے ابھے کمار سنہا نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس ترمیم کے تحت حد بندی کمیشن کو جو اختیارات دیے گئے ہیں، وہ 140 کروڑ عوام کی تقدیر کا فیصلہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے نئی مردم شماری کا انتظار کرنے کے بجائے پرانی بنیادوں پر بل لا کر عجلت کا مظاہرہ کیا ہے۔اس بل کا فائدہ غریب اور پسماندہ خواتین کے بجائے صرف مراعات یافتہ اور خوشحال طبقے کی خواتین تک محدود رہے گا۔
سماج وادی پارٹی کے لال جی ورما نے حکومت پر ‘ڈھنڈورا پیٹنے’ کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی کی نیت صاف ہوتی تو اس بل کو لٹکانے کے بجائے فوری طور پر نافذ کیا جاتا۔ ان کے مطابق، خواتین کو ریزرویشن کے نام پر محض بہلایا جا رہا ہے اور حکومت عملی طور پر انہیں یہ حق دینے سے کتراتی رہی ہے۔
انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) کے ای ٹی محمد بشیر نے کہا کہ جس انداز میں یہ بل لایا گیا ہے، اس سے جمہوری روایات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر جنوبی ریاستوں میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کا ذکر کیا، جہاں حد بندی کے عمل کو لے کر شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے سبارائن نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ “انگریزوں کی طرح” آمرانہ طرزِ عمل اختیار نہ کرے۔ انہوں نے کہا تمل ناڈو جیسی ریاستوں میں حد بندی کے خلاف شدید احتجاج ہو رہا ہے اور لوگ کالے لباس پہن کر سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ اپوزیشن سے مشاورت کرتی، لیکن یکطرفہ فیصلے کی وجہ سے اس بل میں بہت سی خامیاں رہ گئی ہیں جو ریاستوں کی خودمختاری کے خلاف ہیں۔
0
